مانچسٹر: جیلوں سے مجرمان کی جلد رہائی اسکیم کے نتیجے میں جنسی جرائم، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث قیدی ہزاروں افراد کیلئے خطرے کی گھنٹی بن سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنسی جرائم، آتشز زنی، پُرتشدد واقعات سمیت دیگر کئی جرائم میں ملوث مجرمان رہائی کے بعد ممکنہ طور پر دوبارہ جرائم کا ارتکاب کریں گے۔
عوامی غم و غصے کے باوجود وزیراعظم نے متنازعہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت جیلوں میں بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے کیلئے ایسے ہزاروں افراد کو رہائی ملے گی جن کی سزاؤں کا ایک خاص حصہ مکمل ہوچکا ہے۔
سیاسی مخالف جماعتوں نے بھی اس اسکیم پر تنقید کی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر 2029 میں پارلیمنٹ کے اختتام سے قبل جنسی جرائم، پُرتشدد واقعات اور چوری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہوگا جبکہ ناجائز اسلحہ رکھنے، منشیات فروشی کے مقدمات میں بھی اضافہ ہوگا۔
محتاط انداز کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 90 ہزار کے قریب جرائم کا ارتکاب ہو سکتا ہے۔
ٹوری جسٹس کے ترجمان نک ٹموتھی نے کہا کہ لیبر کی جلد رہائی کی اسکیم کا مطلب یہ ہوگا کہ کمیونٹیز خطرناک مجرموں کو اپنی سڑکوں پر واپس برداشت کریں گی۔