انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ رواں سال لبنانی صحافی امل خلیل اور ان کی کیمرہ آپریٹر زینب فرج پر ہونے والا اسرائیلی فضائی حملہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں امل خلیل جاں بحق اور زینب فرج شدید زخمی ہوگئی تھیں۔
ایچ آر ڈبلیو کے مطابق مذکورہ حملہ بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
امل خلیل، جو لبنانی اخبار الاخبار سے وابستہ تھیں، 22 اپریل کو جنوبی لبنان کے قصبے الطیری میں اسرائیلی حملوں کی کوریج کے دوران ایک فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئی تھیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اقوام متحدہ کے لبنان مشن (یونیفل) اور ریڈ کراس کی جانب سے کی گئی درخواستوں سمیت دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج کو علم تھا کہ جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا، اس میں صحافی موجود تھے۔
تنظیم کے مطابق شواہد سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امل خلیل حملے کے بعد کچھ وقت تک زندہ تھیں، تاہم اسرائیلی فورسز نے امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ تک پہنچنے سے روک دیا، جس کے باعث انہیں بروقت طبی امداد فراہم نہ کی جا سکی۔