بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر فرید آباد کے نجی اسکول میں قتل ہونے والی خاتون ٹیچر کے شوہر کا کہنا ہے کہ اگر پولیس میری بیوی کی شکایت پر ملزم کے خلاف کارروائی کرتی تو آج وہ زندہ ہوتی۔
دو روز قبل فرید آباد میں نجی اسکول کی 28 سالہ ٹیچر سندھیا شرما کو بہیمانہ طور میں قتل کردیا گیا، جس پر پولیس نے 21 سالہ امیت کو گرفتار کرلیا ہے۔
ملزم نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے واردات کی منصوبہ بندی تقریباً دو ماہ قبل کر لی تھی اور قتل کے لیے خصوصی طور پر چاقو خریدا تھا۔
مقتولہ کے شوہر وکی گجر نے کہا کہ ان کی اہلیہ پہلے سیروہی گاؤں کے ایک اسکول میں پڑھاتی تھیں، جہاں ملزم اس کے پیچھے لگ گیا تھا جس کی شکایت ہم نے پولیس میں درج بھی کروائی تھی، تاہم اگر چھیڑ چھاڑ کی پہلی شکایت پر پولیس سخت کارروائی کرتی تو آج ان کی اہلیہ زندہ ہوتیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی اور سندھیا شرما کی پسند کی شادی ہوئی تھی اور ان کے دو بچے ہیں، جن میں 7سالہ بیٹا اور 5 سالہ بیٹی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے سندھیا شرما کو قتل کرنے کے موقع کی تلاش میں تھا۔ پیر کے روز اس نے اسکول پہنچ کر ٹیچر کو کلاس روم سے اس کے شوہر کا نام لے کر باہر بلایا، پھر اس کے بال پکڑ کر گردن اور سینے پر پے در پے 27 سے زائد وار کیے، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئی۔
تحقیقات کے مطابق امیت یکطرفہ طور پر سندھیا شرما سے محبت کرتا تھا، تاہم خاتون نے اسے ہمیشہ نظر انداز کیا، اس سے قبل بھی خاتون نے ملزم کے خلاف چھیڑ چھاڑ کی شکایت درج کروائی تھی، جس پر اس نے معافی مانگ لی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت کے بعد خاتون کی جانب سے اسکول اور رہائش تبدیل کرنا بھی ملزم کی ناراضی کی ایک وجہ بنا۔
پولیس نے بتایا کہ ملزم نے ابتدا میں خاتون پر اسکول آتے یا جاتے وقت حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن گرفتاری کے خوف سے اس ارادے سے باز آ گیا اور بعد میں اسکول کے اندر ہی قتل کی واردات انجام دینے کا فیصلہ کیا۔
ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق ملزم اس قدر مشتعل تھا کہ چاقو ٹیڑھا ہونے کے باوجود وہ حملہ کرتا رہا۔ پولیس نے آلہ قتل قبضے میں لے لیا ہے جبکہ ملزم کی موٹر سائیکل اور واردات کے وقت پہنے گئے کپڑے برآمد کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق حملے کی پوری کارروائی اسکول کے سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہوگئی، جبکہ ملزم نے خاتون کو بچانے کی کوشش کرنے والے اسکول کے ایک ملازم کو بھی دھمکیاں دیں۔
ملزم امیت تین بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے، بے روزگار ہے اور بھینسیں پال کر اور دودھ فروخت کرکے اپنا گزر بسر کرتا تھا۔