برطانیہ میں تقریباً 1 لاکھ پولیس اہلکاروں کے نام اور رابطے کی معلومات ڈارک ویب پر لیک ہو گئیں۔
ڈیٹا لیک ہونے کے بعد ایسے اہلکار بھی ممکنہ خطرات کی زد میں آ گئے ہیں جو برسوں سے سنگین جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔
برطانوی میڈیا دی ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ حملہ ایک وسیع سائبر مہم کا حصہ ہے، جس کے دوران وزارتِ دفاع، وزارتِ داخلہ، نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) کا ڈیٹا بھی متاثر ہوا ہے۔
یہ تازہ سائبر حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہیکرز نے محکمۂ تعلیم (ڈی ایف ای) کو بھی نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں 5 لاکھ سے زائد ریکارڈز افشاں ہو گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے پولیس نیشنل لیگل ڈیٹا بیس میں دراندازی کر کے پولیس اہلکاروں کی متعلقہ فورسز سے وابستگی سمیت دیگر معلومات حاصل کیں۔
یہ آن لائن قانونی ڈیٹا بیس برطانیہ میں وزارتِ داخلہ کے ماتحت پولیس فورسز استعمال کرتی ہیں۔
حکام کا ماننا ہے کہ اس حملے کے پیچھے سائبر جرائم پیشہ گروپ ایکسفل اسکواڈ (ExfilSquad) کا ہاتھ ہے، جو حالیہ عرصے میں مغربی ممالک کے اداروں پر ہونے والے متعدد سائبر حملوں سے بھی منسلک سمجھا جاتا ہے۔
محکمۂ تعلیم پر ہونے والے سائبر حملے میں 6 لاکھ 7 ہزار سے زائد ڈیٹا ریکارڈز ڈارک ویب پر شائع کیے گئے تھے۔
حکام کے مطابق اس حملے کا مقصد نظریاتی نہیں بلکہ مالی فائدہ حاصل کرنا تھا۔
ہیکرز نے ڈارک ویب پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایک بار جب آپ کی کمپنی کا ڈیٹا یہاں شائع ہو جاتا ہے تو وہ کبھی عوامی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا اور ہمیشہ انٹرنیٹ پر گردش کرتا رہتا ہے، ہم جو رقم طلب کرتے ہیں، وہ آپ کے ڈیٹا لیک ہونے کے بعد ممکنہ قانونی اخراجات کے مقابلے میں نہایت معمولی ہے، اس لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ ادائیگی کر دی جائے۔
ایک ذریعے کے مطابق برطانیہ میں زیادہ تر پولیس اہلکار اپنی ملازمت کے دوران معمول کی پولیس کارروائیوں کے لیے کسی نہ کسی مرحلے پر پولیس نیشنل لیگل ڈیٹا بیس استعمال کرتے ہیں۔
یہ ڈیٹا بیس انگلینڈ اور ویلز کی تمام پولیس فورسز استعمال کرتی ہیں، جہاں اس وقت 1 لاکھ 45 ہزار 550 مستقل پولیس اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں۔