لاہور کے تھانا ٹاؤن شپ میں پولیس حراست میں 2 خواتین کی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری مکمل ہوگئی، دوسری طرف دونوں خواتین کی موبائل فون سے بنی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق دونوں خواتین پر تشدد کے شواہد نہیں ملے، پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کی روشنی میں موت کی حتمی وجوہات کا تعین ہوسکے گا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کامران کرامت نے ضابطہ فوجداری 176 کے تحت دونوں خواتین کی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری مکمل کر کے رپورٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو جمع کرا دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین پر تشدد کے شواہد نہیں ملے، دونوں کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا، ان کی موت کی حتمی وجوہات کا تعین پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کی روشنی میں ہو سکے گا۔
دونوں خواتین کی ٹاؤن شپ تھانے منتقلی سے کچھ دیر قبل کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں دونوں خواتین بی بلاک ٹاؤن شپ کے اُس گھر کے باہر کھڑی ہیں، جہاں ان پر چوری کا الزام لگا تھا۔
ویڈیو میں خواتین گھر کے مالک عتیق سے تکرار کرتی بھی دکھائی دیتی ہیں، دونوں خواتین نے پولیس آنے سے پہلے مبینہ طور پر جائے وقوعہ سے نکلنے کی کوشش بھی کی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کی موبائل ویڈیو کو تفتیش کا حصہ بنا دیا ہے، فرانزک اور تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔