چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا ہے کہ چین کی غیر معمولی معاشی، سائنسی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے پیچھے جامعات، تحقیق، صنعت اور حکومت کے درمیان مضبوط ربط بنیادی عنصر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ چین میں جامعات محض ڈگریاں دینے والے ادارے نہیں بلکہ قومی ترقی کا انجن ہیں، جبکہ پاکستان کو بھی ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک بننے کے لیے جامعات کو قومی ترقی کے مرکز میں لانا اور تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور انسانی سرمائے پر سرمایہ کاری کو حقیقی قومی ترجیح بنانا ہو گا۔
جنگ/دی نیوز سے چین کے تقریباً 2 ہفتے کے دورے کی خصوصی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز احمد نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایات اور چین کی وزارتِ تعلیم، جامعات اور مختلف اداروں کی دعوت پر پاکستان کی ممتاز جامعات کے سینئر وائس چانسلرز پر مشتمل وفد کے ہمراہ چین کا دورہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران پاکستانی اور چینی جامعات کے درمیان ڈبل، جوائنٹ اور ڈوئل ڈگری پروگرامز، فیکلٹی و طلبہ کے تبادلوں، مشترکہ تحقیق، پاکستانی طلبہ کے لیے چین میں اعلیٰ تعلیم کے مزید مواقع اور سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز کو زیادہ فعال بنانے پر اہم بات چیت ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ بیجنگ لینگویج اینڈ کلچر یونیورسٹی میں یونیورسٹی کی قیادت اور سینئر اساتذہ سے تفصیلی ملاقات ہوئی جبکہ ورلڈ سینولوجی سینٹر کی قیادت کے ساتھ پاکستان میں 10 سینولوجی سینٹرز قائم کرنے پر پیش رفت ہوئی ہے، اس مقصد کے لیے ایچ ای سی سے پاکستان کی 10 جامعات نامزد کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
چیئرمین ایچ ای سی کے مطابق چائنا ایسوسی ایشن آف ہائر ایجوکیشن اور مختلف چینی جامعات کی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں پاک چین اعلیٰ تعلیمی تعاون کو رسمی روابط سے نکال کر عملی اور دیرپا علمی شراکت داری میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا، پاکستانی وائس چانسلرز نے بھی ان ملاقاتوں میں شرکت کی اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعلیمی و تحقیقی منصوبوں کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ فودان یونیورسٹی، نارتھ چائنا الیکٹرک پاور یونیورسٹی، شنگھائی میں انجینئرنگ و ٹیکنالوجی سے متعلق جامعات اور مختلف تحقیقی اداروں کے دوروں سے یہ حقیقت نمایاں ہوئی کہ چین میں جامعات کو قومی معاشی و صنعتی ترقی سے براہِ راست منسلک کر دیا گیا ہے، وہاں جامعات نئی ٹیکنالوجیز تخلیق کرنے، صنعت کے مسائل حل کرنے، اسٹارٹ اپس قائم کرنے اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق انسانی وسائل تیار کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین میں تحقیق کا مقصد محض تحقیقی مقالے شائع کرنا نہیں بلکہ علم کو معاشی اور سماجی ترقی میں تبدیل کرنا ہے، یونیورسٹی، صنعت اور حکومت کے درمیان ایسا مضبوط تعلق قائم کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں جامعات کی تحقیق صنعت تک پہنچتی اور نئی ٹیکنالوجی، مصنوعات اور معاشی سرگرمیوں میں تبدیل ہوتی ہے۔
چیئرمین ایچ ای سی نے بتایا کہ چین کی قومی قیادت نے جامعات اور تحقیق پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے، ایک بڑے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ادارے کے دورے کے دوران انہیں بتایا گیا کہ ادارہ اپنی آمدن کا تقریباً 20 فیصد دوبارہ تحقیق و ترقی پر خرچ کرتا ہے جبکہ اس کا سالانہ آر اینڈ ڈی بجٹ اربوں ڈالرز میں ہے، تحقیقی کمپلیکس کا حجم اس قدر وسیع تھا کہ اس کے اندر آمد و رفت کے لیے باقاعدہ ٹرانسپورٹ کا انتظام موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور آٹومیشن کا چین میں عملی استعمال انتہائی متاثر کن ہے، یہ جدید ٹیکنالوجیز صرف جامعات یا لیبارٹریز تک محدود نہیں رہیں بلکہ ہوٹلوں، شہروں، ٹرانسپورٹ اور فیکٹریوں کے روز مرہ نظام کا حصہ بن چکی ہیں۔
چیئرمین ایچ ای سی کے مطابق ہوٹلوں میں اے آئی ایجنٹس انسانی عملے کی معاونت کر رہے ہیں جبکہ فیکٹریوں میں وہ کام جو کئی ممالک میں سینکڑوں افراد انجام دیتے ہیں، آٹومیشن، روبوٹکس اور جدید کنٹرول سسٹمز کے ذریعے انجام دیے جا رہے ہیں جس سے پیداواری لاگت کم اور کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ انجینئرنگ سے وابستگی کے باعث چین میں الیکٹرک وہیکلز کی تیز رفتار ترقی ان کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث رہی، ایک صدی سے زائد عرصے سے رائج انٹرنل کمبشن انجن ٹیکنالوجی کو جس رفتار سے الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی تبدیل کر رہی ہے، اس سے واضح ہے کہ مستقبل ان قوموں کا ہو گا جو صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں گی۔
چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ چین کی ترقی صرف بڑے سرمائے اور جدید ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ لوگوں میں وقت کی پابندی، نظم و ضبط، محنت اور کام سے وابستگی بھی اس کامیابی کے اہم عوامل ہیں، چین کی قومی قیادت کے پاس واضح وژن، اداروں کے پاس متعین سمت اور عوام میں اس سمت میں آگے بڑھنے کا عزم موجود ہے، جدیدیت کے باوجود چینی عوام کا اپنی زبان، ثقافت اور قومی شناخت سے مضبوط تعلق بھی قابلِ توجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی علمی سمت روایتی طور پر یورپ اور امریکا کی جانب رہی ہے اور ان کی اپنی اعلیٰ تعلیم کا ایک حصہ بھی مغرب میں گزرا، تاہم چین کو قریب سے دیکھنے کے بعد یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ ایشیاء میں بھی ترقی کا ایک ایسا کامیاب ماڈل موجود ہے جس کا پاکستان کو سنجیدگی سے مطالعہ کرنا چاہیے، اس کا مقصد چینی نظام کی نقل کرنا نہیں بلکہ اس کے کامیاب تجربات سے پاکستان کی ضروریات کے مطابق سبق حاصل کرنا ہے۔
ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ پاکستان کی جامعات کو اب خود سے بنیادی سوال کرنا ہو گا کہ کیا ہم صرف ڈگریاں دے رہے ہیں یا ملک کی معیشت اور معاشرے کو تبدیل کرنے کے لیے انسانی سرمایہ اور ٹیکنالوجی بھی پیدا کر رہے ہیں؟ جامعات کو نصاب مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہو گا، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، آٹومیشن اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو تدریس کا حصہ بنانے، فیکلٹی کی استعداد بڑھانے اور صنعت و جامعات کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی جامعات سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو محض ڈگری ہولڈر بنانے کے بجائے workplace-ready بنانا ہو گا تاکہ وہ عملی معیشت اور صنعت کی ضروریات پوری کر سکیں، تحقیق کو بھی صرف مقالوں اور جرائد میں اشاعت تک محدود رکھنے کے بجائے قومی مسائل کے حل، صنعتی پیداوار، نئی ٹیکنالوجیز اور کاروباری مواقع سے منسلک کرنا ہو گا۔
چیئرمین ایچ ای سی نے بتایا کہ چین سے واپسی کے فوراً بعد انہوں نے سندھ، بلوچستان اور پنجاب کی جامعات کے وائس چانسلرز اور بعد ازاں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت کی جامعات کی قیادت کے ساتھ اپنے مشاہدات شیئر کیے ہیں تاکہ پاکستانی جامعات اپنے نصاب، تحقیق، فیکلٹی ڈیولپمنٹ اور صنعت سے روابط کا ازِسرنو جائزہ لے سکیں۔
ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ دورۂ چین کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ کسی قوم کی حقیقی طاقت صرف سڑکوں، عمارتوں اور کارخانوں میں نہیں بلکہ علم اور انسانی سرمائے میں ہوتی ہے، اگر پاکستان کو ترقی پذیر ملک سے ترقی یافتہ ملک بننا ہے تو جامعات کو قومی ترقی کے مرکز میں لانا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ چین کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ جب قومی وژن، اعلیٰ تعلیم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، صنعت، سرمایہ کاری اور محنت ایک ہی سمت میں آگے بڑھیں تو قوموں کی تقدیر تبدیل ہو سکتی ہے، پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، باصلاحیت اساتذہ و محققین اور جامعات کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے، تاہم ضرورت واضح قومی سمت اور تعلیم و تحقیق کو حقیقی ترجیح بنانے کی ہے۔
چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ قوموں کی ترقی کا راستہ یونیورسٹی کے کلاس روم اور ریسرچ لیبارٹری سے شروع ہو کر صنعت، معیشت اور بالآخر قومی خوش حالی تک پہنچتا ہے اور پاکستان کو بھی اسی سمت میں آگے بڑھنا ہو گا۔