پاکستان کرکٹ ٹیم کی دورہ انگلینڈ میں خراب کارکردگی اور مایوس کن بیٹنگ پرفارمنس کے بعد ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے دو ٹوک کہا کہ کھلاڑی خراب کھیلے، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میں ’’ملبہ‘‘ کھلاڑیوں پر ڈال دوں۔
ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے لارڈز ٹیسٹ کے دوسرے دن کھیل کے اختتام پر پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ یہ ہماری ٹیم ہے اور پاکستان کے بہترین کھلاڑی اس کا حصہ ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ بیٹنگ میں اچھا کرتے ہیں ،تو بولنگ خراب ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمد رضوان ،سعود شکیل اور سلمان علی آغا نے پرفارم بھی کیا ہے، لیکن آج رنز نہیں کر رہے، تو بطور ہیڈ کوچ ان کے ساتھ کھڑا ہوں، سیریز کے بعد بیٹھیں گے، بات کریں گے، پھر طے کریں گے، کس کو رکھنا ہے، کس کو نکالنا ہے۔
سرفراز احمد نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں، بلے بازی میں مسائل ہیں، یہ سارے اچھے لڑکے ہیں، بہت محنت کر رہے ہیں ، افسوس نتائج ہمارے حق میں نہیں آرہے، لیکن ہم کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ایک پیشہ ورانہ ٹیم ہے، اگر اسے بین الاقوامی سطح پر اپنا تشخص عالمی معیار کے مطابق رکھنا ہے، تو لڑکوں کو پرفارم کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں جانا ہوگا، اپنی خامیوں پر کام کرنا ہوگا، یہ ضروری ہے۔ جہاں تک رہی ٹیم کی پرفارمنس تو بطور ہیڈ کوچ میں مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں، کسی کو موردالزام نہیں ٹھہراؤں گا۔