امریکا کی جانب سے مسلط معاشی جنگ سے نمٹنے کیلئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای نے صدر پزشکیان کو مزاحمتی معیشت کی پالیسیاں اختیار کرنے کی ہدایت کردی۔
سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای نے قوم کا اتحاد مضبوط کرنے، افراط زر میں کمی، مقامی سطح پر اشیا کی پیداوار بڑھانے، درآمد میں کمی اور ڈالر پر انحصار بتدریج ختم کرنے پر زور دیا۔
خامنہ ای نے امریکا کی مسلط جنگ کے دوران عوام کی ضروریات پوری کرنے پر صدر پزشکیان کی انتظامیہ کو سراہا۔
ایران نے نئی امریکی اقتصادی پابندیاں ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل درآمد سے گریز کریں۔
واضح کیا کہ امریکی پابندیوں میں شرکت غیرقانونی امریکی اقدامات میں معاونت کے مترادف ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب اور امارات سمیت خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کی پیشکش کردی۔
انھوں نے کہا کہ ایران نے عبوری معاہدے کے نفاذ کے دوران تقریباً 9 کروڑ بیرل تیل فروخت کیا۔