اگر صوبے بنانا غداری تھا تو آئین میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے، خالد مقبول

چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ ڈاکٹر خالد مقبول—اسکرین گریپ

چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول نے کہا ہے کہ اگر صوبے بنانا غداری تھا تو آئین میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے، آبادی کے لحاظ سے صوبے بننے چاہئیں۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ آبادی کے باوجود یہ صوبے انتظامی یونٹ ہیں جبکہ آبادی کی رفتار سے زیادہ ملک بھر میں اضلاع بنادیے گئے اور آبادی کے بڑھنے کے باوجود صوبے نہیں بنائے گئے، صوبے نہ بنانے کے جو اثرات آئے ہیں اس پر بھی بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جو تجویز پیش کی اس پر ملک کی مختلف جماعتیں آواز سے آواز ملارہی ہیں، ملک بھر کے افراد سے کہتے ہیں آئیں اس پر ڈائیلاگ شروع کرتے ہیں، اس پر ایک بڑے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، ہم صرف اپنے لے یہ نہیں کہہ رہے ہیں جہاں صوبوں کی ضرورت ہے وہاں بننے چاہئیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ آبادی کے بڑھنے کے باوجود صوبے نہیں بنائے گئے، زیادہ آبادی کے باوجود یہ صوبے انتظامی یونٹ ہیں۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے گناہ میں اسی لئے شامل ہوئے کہ جمہوریت کے اثرات ہر جگہ پہنچیں، پاکستان کے موجودہ صوبے قانونی تقاضوں پر نہیں بنائے گئے تھے، یہ صوبے لسانی بنیادوں پر بنائے گئے تھے، ہم نے آئین میں ترمیم کروائی جب عمل نہ ہوا تو ہم سپریم کورٹ بھی گئے اور سپریم کورٹ جائیں گے۔

خالد مقبول کا کہنا ہے کہ ہم مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں، آبادی کے لحاظ سے صوبے بننے چاہئیں اور سندھ میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، جہاں جہاں سے صوبے کی آواز بلند ہو رہی ہے ہم انکے ساتھ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر صوبے بنانا غداری تھا تو آئین میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے، آبادی کے لحاظ سے صوبے بننے چاہئیں، عوام کے جائز حق کو عوام تک پہنچانا غداری نہیں ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول نے یہ بھی کہا ہم ارادی اور اختیاری سندھی اور ارادی اور اختیاری پاکستانی ہیں، جو سندھی بھائیوں نے ہمارا خیر مقدم کیا ہے وہ قابل تعریف ہے، اگر وہ کہیں گے تو ہم تھینکس گیون ڈے بھی منالیں گے اور ہم نے کسی کے گھر پر قبضہ نہیں کیا۔

Related posts

شعیب ملک کے بیٹے اذہان کا والد کو فٹبال چیلنج، ویڈیو وائرل

مائرہ خان کو بولڈ ڈریسنگ کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا

ملک چلانے والوں کو ادراک ہوگیا ہے ملک بچانے کا واحد راستہ انتظامی یونٹ بنانا ہے: مصطفیٰ کمال