Home اہم خبریںعمان کے ساحل پر بحری جہاز سے تیل کا بڑا اخراج، سمندری حیات اور ماحول کو سنگین خطرہ

عمان کے ساحل پر بحری جہاز سے تیل کا بڑا اخراج، سمندری حیات اور ماحول کو سنگین خطرہ

by 93 News
0 comments
—فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا 

عمان کے سمندری علاقے پر پھنسے ایک آئل ٹینکر سے کئی ہفتوں سے جاری تیل کا اخراج  اب ساحل تک پہنچ چکا ہے جس سے ماحولیاتی تباہی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ 

عرب میڈیا کے مطابق عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ تیل سے متاثرہ سمندری علاقہ ابتدائی طور پر تقریباً 390 مربع کلومیٹر تھا تاہم اب تیل کا پھیلاؤ 2000 مربع کلومیٹر سے تجاوز کر چکا ہے۔

تیل کے پھیلاؤ سے عمان کے علاقے راس مدرکہ کے تقریباً 40 کلومیٹر ساحلی حصے کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ مصیرہ جزیرے کے 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی علاقے تک بھی آلودگی پہنچ سکتی ہے۔

تیل کہاں سے خارج ہو رہا ہے؟

تیل بردار جہاز کیرولین بیزینگی جون میں عمان کے ساحل سے تقریباً 41 کلومیٹر دور سمندر میں پھنس گیا تھا، جہاز کے عملے نے اس سے قبل دھماکوں کی اطلاع دی تھی، جہاز روس سے بھارت جا رہا تھا اور اس میں اندازاً 800،000 بیرل تیل موجود تھا۔

رپورٹس کے مطابق جہاز کئی ہفتوں تک عمان کے قریب پھنسے رہنے کے دوران مسلسل تیل خارج کرتا رہا جس کے نتیجے میں تیل کا پھیلاؤ عمان کے ساحل کی جانب بڑھتا گیا۔

اس وقت تیل کا بڑا حصہ جنوبی عمان کے قریب ہالانیات جزائر کے اطراف موجود ہے، یہ علاقہ حساس سمندری ماحولیاتی نظام کا حامل ہے اور گزشتہ سال یہاں نایاب سمندری حیات اور کچھوؤں کے تحفظ کے لیے سمندری محفوظ علاقہ قائم کیا گیا تھا۔

ماحولیاتی نقصان کتنا بڑا ہوسکتا ہے؟

عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق خام تیل کا اتنا بڑا اخراج سمندری حیات، ساحلی ماحولیاتی نظام اور ماہی گیری کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ 

تیل سمندر کی سطح پر پھیل کر سمندری جانداروں، پرندوں اور کچھوؤں کو متاثر کرسکتا ہے جبکہ ساحلی علاقوں میں پہنچنے کے بعد ریت، چٹانوں اور دیگر قدرتی ماحول کو طویل عرصے تک آلودہ رکھ سکتا ہے۔

ماحولیاتی تنظیم گرین پیس نے خبردار کیا ہے کہ یہ اخراج ایک بڑے ماحولیاتی بحران میں تبدیل ہونے کے قریب ہے۔ 

رپورٹ میں ماہرین نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جہاز میں موجود 800،000 بیرل تیل کا بڑا حصہ سمندر میں خارج ہونے کی صورت میں نقصان انتہائی سنگین ہوسکتا ہے۔

جہاز کے حادثے کی وجہ کیا بنی؟

برطانوی بحری سلامتی کمپنی کے مطابق جہاز کو جون کے آغاز میں یمن کے قریب سمندر میں حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے باعث جہاز کے مختلف حصوں میں پانی داخل ہو گیا تھا تاہم جہاز پر حملوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکوں کی سرکاری وجہ تاحال سامنے نہیں آئی اور کسی فریق نے حملے کی ذمے داری بھی قبول نہیں کی ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے عالمی بحری ادارے نے کہا ہے کہ وہ تیل کے اخراج کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک اور تیل کے جہاز سے اخراج بھی قشم جزیرے تک پہنچ گیا ہے جہاں ساحلوں اور ماحولیاتی لحاظ سے حساس مینگروو جنگلات کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 

عالمی بحری ادارے کے مطابق مارچ کے آغاز سے آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں بحری جہازوں سے متعلق 65 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔

You may also like

Leave a Comment

Soledad is the Best Newspaper and Magazine WordPress Theme with tons of options and demos ready to import. This theme is perfect for blogs and excellent for online stores, news, magazine or review sites.

Buy Soledad now!

Edtior's Picks

Latest Articles

u00a92022u00a0Soledad.u00a0All Right Reserved. Designed and Developed byu00a0Penci Design.

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?
-
00:00
00:00
Update Required Flash plugin
-
00:00
00:00