بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں 38 سالہ خاتون شرمیلا پراوین جگتاپ کو مبینہ طور پر اپنے شوہر پراوین جگتاپ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی اور کوشش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون نے 30 جولائی کو شوہر کے جوس میں نیند کی گولیاں ملائیں جس کے بعد وہ 2 روز تک بے ہوش رہا، یکم اگست کو نیم بے ہوشی کی حالت میں خاتون نے شوہر کو بلے سے تشدد کا نشانہ بنایا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون نے گھر کی بالکونی میں مزدوروں سے اینٹوں اور سیمنٹ کا ایک ڈھانچہ بنوایا اور شوہر کو اس میں ڈال کر اوپر پتھر کی سل رکھنے کی کوشش کی، مزدوروں کو شک ہوا کہ اندر موجود شخص زندہ ہے اور انہوں نے پولیس کو اطلاع دے دی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پراوین کو بچا لیا۔
پراوین کے والد کی شکایت پر پولیس نے شرمیلا کو گرفتار کر لیا، متاثرہ شخص نے بتایا کہ میری والدہ کو بھی مبینہ طور پر نیند کی گولیاں دی گئی تھیں تاہم والدہ ہوش میں آگئیں اور دوسرے بیٹے کو اطلاع دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق متاثرہ شخص کے بھائی نے گھر پہنچ کر پولیس کی موجودگی میں پراوین کو اینٹوں کے ڈھانچے سے نکالا اور اسپتال منتقل کیا۔
پراوین نے بیوی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں جادو ٹونے کا بھی ممکنہ پہلو ہوسکتا ہے، میری اہلیہ نے 13 اور 14 جولائی کو کیلنڈر پر ’کوئی نتیجہ نہیں‘ لکھا تھا جو نئے چاند کے دن تھے۔
پراوین نے پولیس سے بیوی کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے ہائی ڈوز نیند کی گولیاں فراہم کرنے والے میڈیکل اسٹور کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنے اور اس کا لائسنس منسوخ کرنے کا کہا ہے۔
شوہر کا کہنا ہے کہ میرے سسرال والے میرے بیٹے اور بیٹی کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں اور میرے بچوں کی جان کو خطرہ ہے۔