پاکستان کے نوجوان بلے باز عبداللّٰہ شفیق نے ریڈ بال کرکٹ میں فارم کی واپسی کا کریڈٹ پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو کرکٹ کو دے دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو نے مجھے یہاں پہنچانے میں بڑی مدد کی جہاں میں آج موجود ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 4 مختلف وینیوز پر سیمنگ اور اسپن کنڈیشنز میں کھیلنے کا موقع ملا، گرم موسم میں ٹیم کے لیے دباؤ میں کھیلتے ہوئے اہم رنز بنائے، میں نے اپنی ٹیم کی گریڈ ون کرکٹ کے لیے کوالیفائی کرنے میں مدد کی۔
عبداللّٰہ شفیق نے کہا کہ میں گریڈ ٹو ٹورنامنٹ کے دوران ٹیم سے دو گھنٹے پہلے گراؤنڈ میں بیٹنگ پریکٹس کے لیے پہنچ جاتا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ سنجیدہ ہیں اور سخت محنت کرتے ہیں تو اس کا صلہ ضرور ملتا ہے۔
عبداللّٰہ شفیق نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے اٹیک کا میں نے کوئی دباؤ نہیں لیا، میں نے اسپنر جومیل واریکن کو ٹارگٹ کیا تھا، اسے سیٹ نہیں ہونے دینا، میں نے گزشتہ سیزن میں یارکشائر میں ایک چار روزہ میچ کھیلا ہوا ہے۔
26 سالہ دائیں ہاتھ کے بیٹر نے مزید کہا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں لیڈز ٹیسٹ کے لیے میں پُراعتماد ہوں، میں نے ہوم سیریز میں انگلینڈ کا سامنا کیا ہوا ہے، یہ اوے سیریز ایک چیلنج ہوگی۔
عبداللّٰہ شفیق کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایان بشپ کا کتابی پلیئر کہنا قابلِ فخر ہے، بڑا کھلاڑی کوئی ایسا کہتا ہے تو خوشی ہوتی ہے، کتابی شاٹس میں نے اپنے والد اور انکل کی سخت محنت کی وجہ سے بہتر بنائے ہیں، آج کل کے نوجوان اتنی محنت نہیں کرتے جتنی میں نے اپنی کتابی شاٹس کے لیے کی ہے۔