لندن: نیشنل ہیلتھ سروس کے عملے نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران نسل پرستی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سوسائٹی آف ریڈیوگرافرز کی سروے رپورٹ کے مطابق بعض مریضوں نے غیر سفید فام عملے سے علاج کروانے سے انکار کردیا جبکہ بعض نے انہیں ’بندر‘ جیسے توہین آمیز الفاظ سے پکارا۔
بعض مریض نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے عملے کے اراکین کو ’گندے غیر ملکی‘ کہتے ہیں اور یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ یہاں آ کر ان کی نوکریاں لے گئے ہیں۔
ایک سفید فام شخص نے اپنی حاملہ بیوی کا الٹراساؤنڈ کروانے سے صرف اس لیے انکار کر دیا کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی غیر سفید فام فرد اسے ہاتھ لگائے۔
اسی طرح ایک اور شخص نے ایک سیاہ فام ریڈیوگرافر سے ایکسرے کروانے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اسے سیاہ فام افراد سے ڈر لگتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بعض ملازمین نسل پرستانہ تبصروں کو نوکری کا حصہ سمجھ کر برداشت کرنے لگے ہیں۔
ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے انڈسٹریل اسٹریٹیجی اینڈ ممبر ریلیشنز ڈین راجرز کے مطابق نسل پرستی کے واقعات میں اضافہ شرمناک اور ناقابلِ قبول ہے اور یہ بحیثیتِ معاشرہ ہماری ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوسائٹی آف ریڈیوگرافرز نسل پرستی کے تمام واقعات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھے اور اس بات کی بھی نگرانی کرے کہ ان سے کس طرح نمٹا گیا۔
مڈلینڈز میں کام کرنے والی ایک ایشیائی نژاد سونوگرافر کے مطابق میڈیا اور سیاسی جماعتوں میں بھی اسی نوعیت کی باتیں کی جا رہی ہیں، جس کے باعث لوگ اب کھل کر نسل پرستانہ خیالات کا اظہار کرنے لگے ہیں۔
دوسری جانب این ایچ ایس انگلینڈ کے چیف ہیومن ریسورس آفیسر تھامس سائمنز نے کہا کہ ایسے رویے کی صحت کے نظام میں کوئی جگہ نہیں، ان کے مطابق ایسے رویے کے مرتکب مریضوں کے لیے واضح نتائج مقرر کیے جانے چاہئیں اور غیر ہنگامی حالات میں ایسے مریضوں کو علاج فراہم کرنے سے بھی انکار کیا جا سکتا ہے۔