مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان کی مالیاتی کارکردگی 22 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ مالی سال 26-2025ء میں مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا۔
خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 26-2025ء میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک محدود رہا، جبکہ پرائمری سرپلس ریکارڈ 2.9 فیصد تک پہنچ گیا، پاکستان نے مسلسل تیسرے سال پرائمری سرپلس حاصل کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 24-2023ء میں پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 0.9 فیصد، 25-2024ء میں 2.4 فیصد جبکہ 26-2025 میں 2.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
خرم شہزاد کے مطابق مالیاتی خسارہ بھی مسلسل کم ہوا، مالی سال 22-2021ء میں خسارہ جی ڈی پی کا 7.9 فیصد، 23-2022ء میں 7.8 فیصد، 24-2023ء میں 6.8 فیصد اور 25-2024ء میں 5.4 فیصد رہا۔
مشیر وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 26-2025ء میں مجموعی آمدن 19.8 ٹریلین روپے جبکہ ٹیکس آمدن 14.2 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی۔ اسی عرصے میں سود کی ادائیگیاں کم ہو کر 6.95 ٹریلین روپے رہ گئیں۔
ان کے مطابق ایک سال کے دوران سود کی ادائیگیوں میں تقریباً 2 ٹریلین روپے کمی ہوئی اور کُل آمدن میں سود کی ادائیگیوں کا حصہ 61 فیصد سے کم ہو کر 35 فیصد رہ گیا۔
خرم شہزاد کے مطابق ترقیاتی اخراجات اور نیٹ لینڈنگ 3.25 ٹریلین روپے جبکہ مالی سال 26-2025 میں مالیاتی خسارہ 3.31 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا، اسی سال پرائمری سرپلس 3.63 ٹریلین روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں قرضوں کی رفتار بھی 20 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے جبکہ قرض تا جی ڈی پی تناسب کم ہو کر تقریباً 68 فیصد رہ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل پرائمری سرپلس سے پاکستان کی قرضوں کی پائیداری بہتر ہوئی ہے اور کم مالیاتی خسارے کے باعث حکومتی مالی دباؤ میں نمایاں کمی آئی ہے، مضبوط مالیاتی نظم و ضبط سے ملک کے لیے مالی گنجائش بڑھ رہی ہے اور مالیاتی بہتری معاشی استحکام کو مزید تقویت دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 7.9 فیصد مالیاتی خسارے سے 2.6 فیصد خسارے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ پرائمری بیلنس 3.1 فیصد خسارے سے نکل کر ریکارڈ سرپلس میں تبدیل ہوگیا ہے۔
مشیر وزیر خزانہ نے مسلسل تین سال کے پرائمری سرپلس کو پاکستان کی مالیاتی مضبوطی کا ثبوت قرار دیا ہے۔