غزہ امن منصوبے سے انکار کے بعد نیتن یاہو سے تعلقات کیسے ہیں؟ ٹرمپ نے بتا دیا

— فائل فوٹو

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق ٹرمپ کے حمایت یافتہ امن منصوبے کو مسترد کر دیا، اس کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں کے درمیان تعلقات بہت اچھے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوول آفس میں ایک تقریب کے اختتام پر صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔

خیال رہے کہ ایک ہفتے سے زائد عرصے تک بتدریج بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد نیتن یاہو نے اتوار کے روز واضح طور پر کہا کہ غزہ منصوبے کی مخالفت کرتا ہوں۔

امن منصوبے کے تحت اسرائیل کو حماس کی جانب سے غیر مسلح ہونے کے عمل کے ساتھ ساتھ اپنی افواج غزہ سے واپس بلانی تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والے نیتن یاہو 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل بعض رائے عامہ کے جائزوں میں اپنے حریفوں کے برابر یا ان سے پیچھے ہیں، یہ انتخابات 2023ء میں شروع ہونے والی غزہ جنگ کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ منصوبہ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے حامیوں میں مقبول نہیں ہے، جبکہ ان کی کابینہ میں شامل انتہائی دائیں بازو کے ارکان نے بھی ان پر منصوبہ مسترد کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں نیتن یاہو نے ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو اپنی سیاسی مہم کی اہم طاقت کے طور پر پیش کیا تھا، ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت میں غیر معمولی اقدامات کیے ہیں، جن میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنا بھی شامل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے فروری کے اواخر میں نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلاف اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے جنگ بندی اور اس کے بعد تنازع کے مذاکراتی تصفیے پر زور دیا، جنگ کے باعث ٹرمپ کی مقبولیت متاثر ہو رہی تھی اور تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا تھا۔

غزہ امن منصوبہ گزشتہ برس اکتوبر میں امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کا تازہ ترین مرحلہ تھا، جس کے نتیجے میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں کمی تو آئی ہے، تاہم وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں 1,250 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق اسی عرصے کے دوران اس کے 5 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

Related posts

مکہ معاہدہ صرف دفاع پر نہیں، معیشت پر بھی ہونا چاہیے: حافظ نعیم الرحمٰن

عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی

رانچی میں طلبہ پر پولیس تشدد، پرکاش راج نے سوال اٹھا دیا