Home اہم خبریںہاؤس آف لارڈز کا رکن بننا ذاتی خواہش نہیں، برطانوی آئینی نظام کا تقاضا تھا، انس سرور

ہاؤس آف لارڈز کا رکن بننا ذاتی خواہش نہیں، برطانوی آئینی نظام کا تقاضا تھا، انس سرور

by 93 News
0 comments

برطانیہ کے وزیر تجارت انس سرور نے کہا ہے کہ ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت قبول کرنے کے باوجود وہ اب بھی اپنے اس دیرینہ مؤقف پر قائم ہیں کہ اس ایوان کو ختم کرکے اس کی جگہ جمہوری بنیادوں پر منتخب دوسرا ایوان قائم کیا جانا چاہیے۔

ایک انٹرویو میں انس سرور نے کہا کہ ہاؤس آف لارڈز کا رکن بننا ان کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ برطانیہ کے آئینی نظام کا تقاضا تھا، کیونکہ وفاقی کابینہ میں شامل ہونے والے ہر وزیر کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، ہاؤس آف کامنز یا ہاؤس آف لارڈز، میں سے کسی ایک کا رکن ہونا ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا مؤقف آج بھی وہی ہے جو 2022ء میں تھا، یعنی برطانیہ کا دوسرا ایوان ایک ایسی ’’قوموں اور خطوں کی سینیٹ‘‘ ہونا چاہیے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو اور جدید جمہوری اصولوں کی عکاسی کرے۔

حال ہی میں سکاٹش لیبر پارٹی کی قیادت اور سکاٹش پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینے والے انس سرور نے سکاٹش لیبر کی قیادت کو برطانوی سیاست کی مشکل ترین ذمہ داریوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے اپنے ممکنہ جانشینوں پر زور دیا کہ وہ قیادت کے انتخاب کے دوران باہمی اختلافات اور گروہ بندی سے گریز کریں، کیونکہ پارٹی کا اتحاد مستقبل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

You may also like

Leave a Comment

Soledad is the Best Newspaper and Magazine WordPress Theme with tons of options and demos ready to import. This theme is perfect for blogs and excellent for online stores, news, magazine or review sites.

Buy Soledad now!

Edtior's Picks

Latest Articles

u00a92022u00a0Soledad.u00a0All Right Reserved. Designed and Developed byu00a0Penci Design.

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?
-
00:00
00:00
Update Required Flash plugin
-
00:00
00:00