برطانیہ کے وزیر تجارت انس سرور نے کہا ہے کہ ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت قبول کرنے کے باوجود وہ اب بھی اپنے اس دیرینہ مؤقف پر قائم ہیں کہ اس ایوان کو ختم کرکے اس کی جگہ جمہوری بنیادوں پر منتخب دوسرا ایوان قائم کیا جانا چاہیے۔
ایک انٹرویو میں انس سرور نے کہا کہ ہاؤس آف لارڈز کا رکن بننا ان کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ برطانیہ کے آئینی نظام کا تقاضا تھا، کیونکہ وفاقی کابینہ میں شامل ہونے والے ہر وزیر کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، ہاؤس آف کامنز یا ہاؤس آف لارڈز، میں سے کسی ایک کا رکن ہونا ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مؤقف آج بھی وہی ہے جو 2022ء میں تھا، یعنی برطانیہ کا دوسرا ایوان ایک ایسی ’’قوموں اور خطوں کی سینیٹ‘‘ ہونا چاہیے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو اور جدید جمہوری اصولوں کی عکاسی کرے۔
حال ہی میں سکاٹش لیبر پارٹی کی قیادت اور سکاٹش پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینے والے انس سرور نے سکاٹش لیبر کی قیادت کو برطانوی سیاست کی مشکل ترین ذمہ داریوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے اپنے ممکنہ جانشینوں پر زور دیا کہ وہ قیادت کے انتخاب کے دوران باہمی اختلافات اور گروہ بندی سے گریز کریں، کیونکہ پارٹی کا اتحاد مستقبل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔