ایلون مسک کی دولت میں 1 سال کے دوران 320 ارب ڈالرز کا اضافہ

—فائل فوٹو 

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے جولائی 2025ء سے جولائی 2026ء کے دوران اپنی دولت میں 320 ارب ڈالرز کا اضافہ کیا، یعنی ان کی دولت میں اوسطاً روزانہ 875 ملین ڈالرز کا اضافہ ہوا۔

مالیاتی تجزیہ کرنے والے ادارے بیسٹ بروکرز کی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار فوربز کی حقیقی وقت میں جاری ہونے والی ارب پتی افراد کی فہرست کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ 

محققین نے 27 جولائی 2025ء اور 27 جولائی 2026ء کو دنیا کے امیر ترین افراد کی اندازاً دولت کا موازنہ کر کے ایک سال کے دوران دولت میں ہونے والی تبدیلی کا جائزہ لیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 1 سال میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی کے باعث ٹیکنالوجی سے وابستہ ارب پتی افراد کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایلون مسک کے بعد ڈیل ٹیکنالوجیز کے بانی اور سربراہ مائیکل ڈیل کی دولت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا جنہوں نے اسی عرصے میں 107.6 ارب ڈالرز کمائے۔

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی کا سب سے نمایاں اثر ڈیپ سیک کے بانی لیانگ وین فینگ کی دولت پر پڑا جو 2025ء میں 1 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 2026ء میں 39.5 ارب ڈالرز ہو گئی، یعنی ایک سال میں 3,850 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد وہ دنیا کے 50 امیر ترین افراد میں شامل ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک مئی 2024ء سے دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اور 2021ء میں پہلی بار فوربز کی ارب پتی فہرست میں شامل ہونے کے بعد سے دولت کے نئے ریکارڈ قائم کرتے رہے ہیں۔ 

1 جون کو اسپیس ایکس کے حصص کی عوامی فروخت کے بعد وہ دنیا کے پہلے کھرب پتی شخص بھی بن گئے تھے تاہم حصص کی قیمت میں شدید کمی کے بعد گزشتہ ماہ یہ اعزاز ان سے چھن گیا، اس وقت ان کی اندازاً دولت 690 ارب ڈالرز ہے۔

واضح رہے کہ ایلون مسک کا تعلق جنوبی افریقا سے ہے، وہ 18 سال کی عمر سے پہلے کینیڈا منتقل ہو گئے تھے جہاں انہوں مختلف ملازمتیں کیں اور یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے معاشیات میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔

Related posts

امریکا و پاکستان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے پروقار اور یادگار تقریب

ورلڈ کپ حصص فروخت کرنے کی کوشش، اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف کی فیفا قیادت پر سخت تنقید

گووندا کو راجیش کھنہ سے پہلی ملاقات یاد آ گئی، دھرمیندر کی بھی تعریف