اردو یونیورسٹی کے سیکیورٹی انچارج پر قاتلانہ حملہ، 7 پروفیسرز کو نوٹس، اساتذہ سراپا احتجاج

فوٹو: فائل

کراچی میں وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن کمپس کے سیکیورٹی انچارج پر قاتلانہ حملے کے معاملے میں جامعہ کے 7 پروفیسرز کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پروفیسرز کو واقعہ سے متعلق دفعہ 160 کے تحت بیانات ریکارڈ کروانے کا نوٹس دیا گیا ہے۔ مقدمہ میں کسی بھی پروفیسر کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔

جامعہ کے اساتذہ کا احتجاج

دوسری جانب سیکیورٹی انچارج پر حملے میں 7 پروفیسرز کو شامل تفشیش کرنے پر اساتذہ نے احتجاج کیا ہے۔ 

اس دوران مظاہرین کا کہنا تھا کہ 7 پروفیسرز دونوں کیمپسز کی انجمنِ اساتذہ کے عہدیدار ہیں۔ پروفیسرز کئی ماہ سے تنخواہوں، ہاؤس سیلنگ، پنشن کےلیے تحریک چلا رہے ہیں۔

احتجاج کرنے والے اساتذہ نے کہا کہ حقوق کی آواز اٹھانے والے پروفیسرز کو پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 27 ماہ کی ہاؤس سیلنگ، تنخواہوں، پنشن کےلیے جدوجہد جاری رہے گی۔

Related posts

لکی علی کا دورانِ سفر ہمیشہ کفن ساتھ رکھنے کا انکشاف

پیرس میں بانئ پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرہ

مکہ معاہدے کا مقصد قطعی جارحیت نہیں ہے، خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی کیلئے ہے، شہباز شریف