پاکستان امریکن پریس ایسوسی ایشن پاپا (PAPA) کے زیرِ اہتمام واشنگٹن میں امریکا کے تاریخی 250 ویں یومِ آزادی اور پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے ایک پروقار اور یادگار مشترکہ تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب میں سفارت کاروں، سرکاری و سیاسی شخصیات، صحافیوں، پاکستانی امریکن دانشوروں، کاروباری و سماجی رہنماؤں اور پاکستانی امریکی کمیونٹی کی نمایاں شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ تھے، جنہوں نے پاکستانی امریکی صحافتی برادری سے تفصیلی خطاب کیا۔
سفیر رضوان سعید شیخ نے اپنے خطاب میں میں کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اس وقت ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر دکھائی دے رہے ہیں، تاہم اس پیش رفت پر خود اطمینان کا شکار ہونے کی کوئی گنجائش نہیں، موجودہ صورتِ حال پاکستان اور امریکا دونوں کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ بہتر دکھائی دینے والے تعلقات کو ایک مضبوط، دیرپا اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔
سفیر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں تاریخی طور پر اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، بہترین اور بدترین ادوار بھی آئے، حتیٰ کہ بعض مواقع پر یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات طلاق کے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں، لیکن دونوں ممالک کا تعلق ہر بار برقرار رہا۔
انہوں نے ایک سابق پاکستانی وزیر کا دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس وزیر نے ایک موقع پر پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو تین مرتبہ طلاق کے لیے درخواست دینے سے تشبیہ دی تھی، تاہم تینوں مرتبہ طلاق عملی شکل اختیار نہیں کر سکی۔
سفیر نے اپنے مخصوص برجستہ انداز میں کہا کہ ایک پاکستانی سفارت کار کی حیثیت سے ان کے خیال میں یہ طلاق اس لیے نہیں ہو سکی کیونکہ پاکستان اسڑیجک طور ہینڈسم ہے یعنی پاکستان اپنی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت کے باعث امریکا کے لیے ایک اہم ملک ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت پر سفیر نے کہا کہ گزشتہ عرصے کے دوران پاکستان نے اپنی بہادری، صلاحیت، استحکام اور علاقائی کردار کے متعدد شواہد پیش کیے ہیں، پاکستان ناصرف اپنے لیے استحکام برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ وسیع تر خطے اور عالمی سطح پر بھی استحکام میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مکہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت بھی پاکستان کے جغرافیے، خطے میں اس کی اہمیت اور اس کے تزویراتی کردار کا ایک اور اعتراف ہے۔
ان کے مطابق حالیہ علاقائی پیش رفت نے پاکستان کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا ہے اور اس کا اثر موجودہ بین الاقوامی صورتحال پر بھی پڑ رہا ہے، تعلقات کبھی اتنے اچھے نہیں رہے۔
سفیر نے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران پاک امریکا تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے دونوں رخ دیکھے ہیں۔
انہوں نے معروف برطانوی مصنف چارلس ڈکنز کے الفاظ بدترین اوقات اور بہترین اوقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تعلقات ماضی میں بہتر ادوار دیکھ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 79 برسوں میں پاک امریکا تعلقات اس وقت کبھی اتنے اچھے دکھائی نہیں دیے جتنے آج دکھائی دے رہے ہیں، تاہم سفیر نے واضح کیا کہ محض تعلقات کا اچھا دکھائی دینا کافی نہیں، بلکہ بہتر شکل اختیار کرنے والے تعلقات کو عملی کامیابی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ چونکہ میں خود بھی ایک خوب صورت شخص ہوں، اس لیے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ صرف اچھا نظر آنا کافی نہیں ہوتا، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس خوبی کو عملی کامیابی میں تبدیل کیا جائے۔
سفیر رضوان سعید شیخ کے مطابق موجودہ مرحلے میں پاکستان اور امریکا کی توجہ خاص طور پر تعلقات کے معاشی پہلو کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے وزیرِ خارجہ کے الفاظ میں بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک اسٹریٹجک پارٹنر شپ ابھرتی ہوئی نظر آ رہی ہے، لیکن اس شراکت داری کو مضبوط اور دیرپا بنانے کے لیے اسے معاشی بنیادوں پر استوار کرنا ہو گا۔
ان کے مطابق مستقبل کی پاک امریکا شراکت داری کو معاشی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی اقتصادی روابط کا سہارا حاصل ہونا چاہیے۔
سفیر نے کہا کہ ایسی شراکت داری ان کے بطور سفیر عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی قائم رہ سکتی ہے، حتیٰ کہ موجودہ نسل کے بعد آنے والی نسلوں تک بھی اس کے اثرات برقرار رہ سکتے ہیں، ایسا تعلق پائیدار، قابلِ عمل اور sustainable ہونا چاہیے۔
سفیر رضوان سعید شیخ نے پاکستانی امریکی صحافتی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی محض خبریں رپورٹ نہیں کرتے بلکہ وہ تاریخ کا موجودہ مسودہ لکھتے ہیں۔
ان کے مطابق صحافی سرخیاں تخلیق کرتے ہیں، ان سرخیوں پر تبصرہ کرتے ہیں اور موجودہ واقعات کا وہ ریکارڈ تیار کرتے ہیں جسے مستقبل میں تاریخ ایک مخصوص دور کے بارے میں اپنے فیصلے میں استعمال کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسی لیے پاکستانی امریکی صحافت کا کردار صرف خبروں کی رپورٹنگ تک محدود نہیں بلکہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کے بارے میں عوامی بیانیے کی تشکیل میں بھی اہم ہے۔
سفیر نے پاکستانی امریکی صحافیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور امریکا کے درمیان معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو نمایاں کریں، اس مثبت پیش رفت کو عوام کے سامنے لائیں اور ساتھ ہی اپنے تجربے اور تجزیے کی بنیاد پر جہاں ضروری ہو وہاں مناسب اصلاحات (course corrections) کی نشاندہی بھی کریں۔
اپنی گفتگو کے دوران سفیر رضوان سعید شیخ نے معروف صحافتی شخصیت انور اقبال اور عظیم ایم میاں کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ وہ ان کے کالم، اوپ ایڈز، مضامین اور خبریں اُس وقت پڑھا کرتے تھے جب وہ سندھ میں CSS مقابلے کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔
سفیر نے بتایا کہ ان کی عظیم ایم میاں سے پہلی ملاقات غالباً 1997ء میں نیویارک کے اپنے پہلے دورے کے دوران ہوئی تھی، انہوں نے انور اقبال اور عظیم ایم میاں کو پاکستانی صحافتی دنیا کی ان شخصیات میں شمار کیا جنہوں نے صحافت کی روایت کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔
سفیر نے پاکستانی امریکی صحافت میں موجود سینئر اور تجربہ کار صحافیوں کو لیجنڈز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحافی ناصرف امریکا میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک مضبوط آواز ہیں بلکہ دور رہتے ہوئے بھی اپنے وطن پاکستان کی صحافتی روایت میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سفیر نے کہا کہ صحافیوں کی تنظیم پاپا ایک مانوس اور خاندانی احساس دیتے ہے اور یہ بات درست ہے کہ صحافتی برادری کو ایک خاندان کی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے پاپا کے لیے ترقی، خوشحالی اور بالخصوص ان کے پیشے کے حوالے سے بھرپور تخلیقی و صحافتی سرگرمی (prolificity) کی دعا کی۔
سفیر نے کہا کہ صحافی جو کچھ بھی کریں، اس سے امریکا میں ان کی اپنی کمیونٹی اور پاکستان میں ان کے وطن دونوں جگہ ان کے مقام اور مرتبے میں اضافہ ہونا چاہیے اور امید ظاہر کی کہ صحافتی سرگرمیوں کا یہ کردار پاکستان اور امریکا کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔
سفیر نے دونوں ممالک کی تاریخی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنی 250 ویں آزادی کی سالگرہ منا رہا ہے جبکہ پاکستان اپنے 79 ویں یومِ آزادی کی سالگرہ کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی آزادیوں کے ان اہم سنگِ میل کے موقع پر پاک امریکا تعلقات کے نئے بیانیے اور مستقبل کی سمت پر غور کرنا بھی ضروری ہے، یہ مشترکہ تقریبات محض ماضی کو یاد کرنے کا موقع نہیں بلکہ مستقبل کے تعلقات کی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع بھی ہیں، آنے والی نسلیں ان بیجوں کی فصل کاٹیں۔
تقریب کے اختتام پر سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ وہ اپنے موجودہ سفارتی دور میں ایسے بیج بونا چاہتے ہیں جن کی فصل مستقبل کی پاکستانی امریکی نسلیں کاٹ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاک امریکا تعلقات کو ایسے انداز میں آگے بڑھایا جائے جو محض وقتی یا کسی ایک سفیر، حکومت یا نسل تک محدود نہ ہو بلکہ enduring اور durable ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ آج کیے جانے والے اقدامات مستقبل میں پاکستانی امریکی نسلوں کے لیے مضبوط تعلقات، بہتر معاشی مواقع اور دونوں ملکوں کے درمیان گہری شراکت داری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے پاک امریکا دوستی کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ آنے والے مہینوں اور برسوں میں دونوں ممالک کی دوستی مزید ترقی کرے۔
قبل ازیں تقریب کا آغاز مدیحہ مسعود کی دعوت پر حافظہ نور کی دعا سے ہوا، بعد ازاں تقریب کے میزبان اور سینئر صحافی ثاقب الاسلام نے اپنے افتتاحی کلمات ادا کیے۔
اس موقع پر پاکستان اور امریکا کے قومی ترانوں کے احترام میں تمام شرکاء کھڑے ہوئے۔
جنرل سیکریٹری یوسف چوہدری نے افتتاحی کلمات، جبکہ صدر خرم شہزاد نے صدارتی خطاب کیا اور پاکستانی امریکی صحافیوں کے کردار، کمیونٹی کی خدمات اور پاک امریکا تعلقات میں عوامی رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگے سے تعلق رکھنے والی پاکستانی امریکن ممتاز شخصیات کو ایواراڈ دیے گئے جن میں جج امینہ خان، پاکستانی امریکی رہنما ڈاکٹر ساجد تارڑ، امریکی مسلم سول رائٹس رہنما زینب چوہدری، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز تقریب کا ایک اہم اور یادگار حصہ ان شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا جنہوں نے صحافت، عوامی خدمت، قانون، کاروبار، سماجی بہبود، فن و ادب، سکیورٹی اور پاک امریکا تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں جن میں جج امینہ خان، پولیس چیف کامران افضل، ڈاکٹر ساجد تارڑ سینئر صحافی انور اقبال، عظیم ایم میاں، نوید بٹ، ڈاکٹر بینا گوئندی، عبدالرؤف شکوری، میاں طاہر اسماعیل، محمد سلیم، سفیر رضوان سعید شیخ، جبکہ جرنلزم ایکسیلنس ایوارڈز فقیر نقوی، راجہ زاہد خانزادہ، عزیز احمد، عظمیٰ گل، ذیشان طاہر، عمر فاروق جان، اسد اللّٰہ خالد، فضل خالق، محمد فرخ، فہیم میاں، معاوز اسد صدیقی، قاضی نوید، مدیحہ مسعود، ثاقب الاسلام کو دیے گئے۔
تقریب کے اختتامی کلمات PAPA کے صدر خرم شہزاد نے ادا کیے، جس کے بعد تمام شرکاء نے ایک یادگار گروپ تصویر میں شرکت کی۔
تقریب کا اختتام عشائیے اور نیٹ ورکنگ کے ساتھ ہوا، جہاں سفارت کاروں، صحافیوں، کاروباری و سماجی رہنماؤں اور کمیونٹی شخصیات کو ایک دوسرے سے رابطے اور گفتگو کا موقع ملا۔