ہاسٹل میں جونیئر ڈاکٹر کی خودکشی، ہراسانی کے الزام میں 4 سینئر ڈاکٹرز معطل

—فوٹوز بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی شہر سورت کے سرکاری میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں 30 سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر ہرش پانڈیا نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ہرش پانڈیا کی خودکشی کے بعد ہراساں اور ریگنگ کرنے کے الزام میں 4 سینئر ڈاکٹروں کو 6 ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ہرش پانڈیا گزشتہ 6 ماہ سے نیو سول اسپتال کے شعبہ مائیکرو بائیولوجی میں ریزیڈنٹ ڈاکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور پوسٹ گریجویٹ تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے، ان کی حال ہی میں منگنی ہوئی تھی۔

ہرش کے والد ڈاکٹر سبھاش پانڈیا کا کہنا ہے کہ مجھے اتوار کی صبح بیٹے کے ایک دوست نے فون کر کے فوری طور پر سورت آنے کو کہا، ہرش کو تعلیم کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا تاہم شعبے میں سینئر اور جونیئر ڈاکٹروں کے درمیان کام کے حوالے سے کبھی کبھار اختلافات رہتے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پہلے سال کے طالب علم کی حیثیت سے ہرش کی گزشتہ روز کو نیو سول اسپتال میں ایمرجنسی ڈیوٹی تھی، ڈیوٹی پر نہ پہنچنے پر ایک سینئر ڈاکٹر نے انہیں فون کیا تاہم فون بند تھا۔

اس کے بعد ہاسٹل میں رہنے والے ایک جونیئر ڈاکٹر کو ہرش کے کمرے کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا گیا۔

ساتھی ڈاکٹر جب ہرش کے کمرے میں پہنچا تو دروازہ اندر سے بند تھا، بار بار آواز دینے اور دروازہ کھولنے کی کوشش کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا،  سیکیورٹی عملے کی مدد سے دروازہ توڑا گیا تو ہرش پانڈیا کی لاش چھت کے پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی۔

پولیس تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ 4 سینئر ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ہرش کو مسلسل ہراساں کر رہے تھے، چاروں ڈاکٹروں کو اسپتال، ہاسٹل اور تمام تدریسی سرگرمیوں سے 6 ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

Related posts

غیر سماجی و خطرناک ڈرائیونگ کرنیوالے شخص کی 90 گاڑیاں ضبط

پاکستان کو اعلیٰ تعلیم و تحقیق حقیقی قومی ترجیح بنانا ہو گی: چیئرمین ایچ ای سی

مستعفی ہونے کی خبروں کے دوران ایرانی صدر پزشکیان کی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے اہم ملاقات