سپریم کورٹ کا پرانے ٹیکس کیسز میں نئے جرمانوں پر اہم فیصلہ جاری

—فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے پرانے ٹیکس کیسز میں نئے جرمانوں پر اہم فیصلہ جاری کر دیا۔

سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے ٹیکس قوانین پر فیصلہ جاری کیا، جسٹس عقیل احمد عباسی نے فیصلہ تحریر کیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ماضی کے ٹیکس معاملات پر نئے جرمانے نہیں لگ سکتے، پرانے ٹیکس تخمینوں پر نیا مالی بوجھ ڈالنا غیرقانونی ہے، ٹیکس جرمانہ محض کارروائی نہیں، اضافی مالی ذمے داری ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ واضح قانونی اختیار کے بغیر پرانے کیسز پر نیا جرمانہ نہیں لگ سکتا، پرانے مکمل شدہ ٹیکس معاملات دوبارہ نئی ذمے داری کا شکار نہیں ہوسکتے۔

سپریم کورٹ نے سابق عدالتی فیصلوں کا قانونی تضاد دور کر دیا، ٹیکس محکمہ کی اپیل مسترد کر دی، ٹیکس جرمانوں کے ماضی سے نفاذ پر سپریم کورٹ نے واضح ممانعت کی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ برابر حیثیت کا بینچ اختلاف کرے تو معاملہ بڑے بینچ کو جائے گا، پرانے ٹیکس معاملات پر بعد کی قانون سازی کا بوجھ نہیں ڈالا جاسکتا، قانون ماضی میں نئی مالی ذمے داری پیدا نہیں کرسکتا، پرانے ٹیکس تخمینوں پر نئے قانون کی تلوار نہیں چل سکتی۔

Related posts

ایلون مسک کی دولت میں 1 سال کے دوران 320 ارب ڈالرز کا اضافہ

سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری

کامران غلام کو انگلینڈ بھیجنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے: عاقب جاوید