اسرائیلی حکام نے ایران کے ساتھ امریکا کی تازہ سفارتی کوششوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر ہر قیمت پر ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 12 کے مطابق اسرائیل کو ایران سے مذاکرات کے حوالے سے امریکا کی جانب سے براہِ راست آگاہ نہیں کیا جا رہا اور وہ معلومات کے لیے بالواسطہ ذرائع پر انحصار کر رہا ہے۔
رپورٹ میں ایک سینئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تل ابیب میں صدر ٹرمپ کی تہران کے حوالے سے پالیسی پر غیر یقینی صورتِ حال بڑھتی جا رہی ہے۔
امریکی پالیسی میں اچانک تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ امن اور جنگ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کی بورڈ پر T، R اور U حروف کے درمیان ہے۔
چینل 12 کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر واشنگٹن اسرائیل کو براہِ راست بریفنگ نہیں دے رہا، جس کے باعث اسرائیلی حکام زیادہ تر معلومات بالواسطہ ذرائع سے حاصل کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے نجی محفلوں میں نئی سفارتی کوششوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ممکنہ معاہدہ آبنائے ہرمز میں سرگرمیوں کے لیے قواعد و ضوابط طے کر سکتا ہے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلے سے موجود کسی مفاہمت کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں سے آمد و رفت کے حوالے سے مذاکرات ابھی حتمی مرحلے میں نہیں پہنچے، تاہم مجھے امید ہے کہ اس سلسلے میں بہت جلد معاہدہ طے پا جائے گا۔