امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک بار پھر بے یقینی کی لہر دوڑ گئی، جس کے نتیجے میں برطانیہ میں گیس کی قیمتیں گزشتہ 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ خام تیل کی عالمی قیمت بھی دوبارہ 90 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
اس صورتِ حال نے برطانیہ خصوصاً اسکاٹ لینڈ کے لاکھوں گھرانوں کے لیے توانائی کے اخراجات میں اضافے کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔
انرجی اینڈ کلائمیٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای سی آئی یو) کی تازہ رپورٹ کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث اسکاٹ لینڈ کے صارفین مجموعی طور پر ہر ہفتے تیل اور گیس پر تقریباً 25 ملین پاؤنڈ اضافی خرچ کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں یہی صورتِ حال برقرار رہی تو آئندہ سال ہر گھرانے کو اوسطاً 90 پاؤنڈ اضافی ادا کرنا پڑ سکتے ہیں، جبکہ ملک بھر میں تیل اور گیس پر اضافی سالانہ اخراجات 500 ملین پاؤنڈ سے بھی تجاوز کر سکتے ہیں۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ عالمی حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے اتحادی ممالک اور توانائی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
حکومتی حلقوں کے مطابق برطانیہ کی توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانے، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری بڑھانے اور صارفین کو مستقبل میں عالمی منڈی کے شدید اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔
دوسری جانب اسکاٹش حکومت نے توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم آمدنی والے خاندان پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔
حکومت نے ایک بار پھر قابلِ تجدید توانائی، ونڈ پاور اور دیگر مقامی ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں مزید سرمایہ کاری پر زور دیا ہے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔
اپوزیشن جماعتوں نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو حکومت کی توانائی پالیسی کی کمزوری قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صارفین کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، گھریلو توانائی کے بلوں میں کمی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور توانائی کی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے واضح اور طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی اور تیل و گیس کی عالمی قیمتیں اسی طرح بلند رہیں تو اس کے اثرات صرف توانائی کے بلوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اشیائے خور و نوش، ٹرانسپورٹ، صنعت اور کاروباری سرگرمیوں کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ اور صارفین کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران سے نمٹنے کا مؤثر حل یہ ہے کہ برطانیہ مقامی سطح پر توانائی کے متبادل ذرائع، خصوصاً قابلِ تجدید توانائی، جوہری توانائی اور توانائی کے ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری تیز کرے، تاکہ مستقبل میں عالمی سیاسی کشیدگی کے معاشی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔