امریکی ریاست جارجیا کے ہائی اسکول میں فائرنگ کر کے 4 افراد کو ہلاک کرنے والے لڑکے کے والد کو 15 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 16 سالہ لڑکے کو 2 دن قبل عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اب اس کے والد 55 سالہ کولن گرے کو قتل، غیر ارادی قتل اور دیگر الزامات کے تحت 15 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 2024ء کے واقعے میں مجرم کی فائرنگ سے 2 اساتذہ اور 2 طلبہ ہلاک ہو گئے تھے۔
عدالت میں استغاثہ نے کہا کہ لڑکے کا والد کولن گرے وہ واحد شخص تھا جو فائرنگ کے واقعے کو روک سکتا تھا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق عدالت میں استغاثہ نے کولن گرے کے لیے 80 سال قید کی زیادہ سے زیادہ سزا کا مطالبہ کیا تھا جبکہ وکیلِ صفائی نے جج سے 10 سال کی کم سزا کی استدعا کی۔
جج نے سزا سنانے سے قبل براہِ راست کولن گرے سے بات کی اور اسے اپنے بیٹے کو کونسلنگ کے لیے نہ بھیجنے، اس کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر نہ رکھنے اور گھر میں موجود بندوقوں کو محفوظ طریقے سے نہ رکھنے پر اس کی سرزنش کی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ حملے سے ایک سال قبل کرسمس کے موقع پر باپ نے اپنے بیٹے کو بندوق (رائفل) خرید کر دی تھی، جبکہ اس کے بیٹے سے 7 ماہ پہلے ہی پولیس اسکول میں فائرنگ کرنے کی آن لائن دھمکیوں کے سلسلے میں پوچھ گچھ کر چکی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ امریکی اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات کو روکنے کی کوشش میں والدین کو جوابدہ ٹھہرانے کے وسیع تر دباؤ کا حصہ ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق لڑکے کے والد کے خلاف یہ قانونی کارروائی تیسرا کیس ہے جس میں امریکی والدین کو ان کے بچے کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے کیس میں مجرمانہ طور پر ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔