سعودی عرب کی قیادت میں 13 ممالک نے بحری دفاعی اتحاد قائم کر لیا جس کا مقصد آبنائے باب المندب، بحیرۂ احمر اور خلیج عدن میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ مجموعی طور پر 15 ممالک نے اتحاد کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جبکہ 13 ممالک نے اپنی قومی کارروائیاں مکمل کر کے اتحاد کے منشور پر دستخط کیے اور باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کر لی۔
اتحاد میں بحرین، بنگلا دیش، کوموروس، جبوتی، مصر، اردن، کویت، پاکستان، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکی اور یمن شامل ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع نے 30 جولائی کو کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا، وزارت کے مطابق اتحاد میں مزید ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق 13 اگست کو جدہ میں ہونے والے اتحاد کے تیسرے اجلاس کے بعد سعودی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اتحاد اب ادارہ جاتی اور عملی سرگرمیوں کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
اتحاد کے تحت رکن ممالک معلومات اور خفیہ اطلاعات کا تبادلہ کریں گے، مشترکہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی، بحری مشقیں اور تربیتی سرگرمیاں کریں گے، فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے اور ضرورت پڑنے پر مشترکہ بحری کارروائیاں بھی کریں گے۔
سعودی عرب نے ریئر ایڈمرل عبداللّٰہ بن سالم الشہری کو اتحاد کا کمانڈر مقرر کیا ہے جو مشترکہ بحری دفاع، رکن ممالک کے درمیان رابطے اور اتحاد کے منشور کے تحت کارروائیوں کی نگرانی کریں گے۔
اتحاد کی اہمیت کیا ہے؟
یہ اتحاد ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث خلیجی اور بحری سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیج عدن کے راستے سعودی پرچم بردار جہازوں پر حملوں نے بھی خطرات بڑھا دیے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق اس اتحاد سے متعلق سینئر تجزیہ کار احمد ناجی کا کہنا ہے کہ اتحاد اہم ثابت ہو سکتا ہے تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ رکن ممالک سیاسی وعدوں کو عملی اقدامات میں کس حد تک تبدیل کرتے ہیں۔
احمد ناجی کے مطابق ماضی میں خلیج عدن میں بحری قزاقی کے خلاف بھی متعدد بحری سلامتی کے اقدامات کیے گئے لیکن بعض اقدامات سیاسی اہمیت کے باوجود عملی نتائج دینے میں مشکلات کا شکار رہے۔
حوثیوں کے خلاف مشترکہ دفاع
رپورٹ میں شامل کیے گئے تجزیے کے مطابق سعودی عرب اس اتحاد کے ذریعے حوثیوں کے حملوں کو صرف سعودی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے خطرہ قرار دینا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ حوثیوں نے 2014ء میں یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد سے سعودی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران بھی حوثیوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ باب المندب کو مکمل طور پر بند کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کار احمد ناجی کے مطابق فی الحال یہ اتحاد بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور حوثیوں کے خلاف براہِ راست جارحانہ کارروائی کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا تاہم اگر حملے جاری رہے تو سعودی عرب مستقبل میں براہِ راست کارروائی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق اتحاد کا بنیادی مقصد حوثیوں کے حملوں کی شدت کو واضح کرنا، حملوں کو روکنے کے لیے مضبوط دفاعی رکاوٹ پیدا کرنا اور یہ واضح کرنا ہے کہ بحیرۂ احمر میں حملے صرف سعودی مفادات نہیں بلکہ عالمی تجارت اور بین الاقوامی جہاز رانی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔