امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام آباد مذاکرات میں ایران سے کیا چاہتے ہیں؟ جواب دے دیا۔
پی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا مذاکرات میں ایران سے صرف ایک چیز چاہتا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کا وعدہ کرے ۔
انہوں نے کہا کہ ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ڈیل نہ ہوئی تو جنگ شروع ہوجائے گی، ان کے پاس بڑا وقت ہے، وہ جلد بازی میں بُری ڈیل نہیں کریں گے۔
اگر کل شام جنگ بندی کی مدت ختم ہو جاتی ہے تو کیا ہوگا؟ ٹرمپ نے جواب دیا کہ تو پھر بہت سارے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔
امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا ایران اب بھی ان مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ایران کو مذاکرات میں وہاں ہونا چاہیے، ہم نے وہاں ہونے پر اتفاق کیا تھا، حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے نہیں کیا، لیکن نہیں، یہ طے پایا تھا، ہم دیکھیں گے کہ وہ وہاں ہوتے ہیں یا نہیں، اگر وہ وہاں نہیں ہوتے، تو وہ بھی ٹھیک ہے۔
ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کشنر کے مشرق وسطیٰ میں کاروباری اور مالی مفادات ہیں، کیا ان کا وہاں مذاکرات کرنا مناسب ہے؟ جس پر جواب دیا کہ کشنر اب سعودی عرب کے ساتھ کاروبار میں شریک نہیں، وہ اچھے مذاکرات کار ہیں، وہ وہاں بہت عرصہ پہلے بھی تھے، کشنر صرف اس حقیقت کےلیے مذاکرات کر رہے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، ہم اس کے سوا کسی چیز پر بات نہیں کر رہے، میں نے مذاکرات کے لیے اپنی اے ٹیم بھیجی اور اس سے بہترین کا کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران تنازع ختم ہو تو تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچی آئیں گی، اگر ایران وہ کرتا ہے جو اسے کرنا چاہیے، تو ایسا ہوگا۔