الہٰ آباد ہائیکورٹ نے طالبہ کی حجاب کی درخواست مسترد کر دی

—فائل فوٹو 

بھارتی شہر الہٰ آباد کی ہائی کورٹ نے ایک نجی اسکول کی طالبہ کی درخواست مسترد کر دی جس میں اسکول انتظامیہ کو یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت دینے کی ہدایت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 2 رکنی بینچ نے پریاگ راج کے ایک نجی اسکول کی طالبہ کی درخواست پر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ تعلیمی ادارے کے مقرر کردہ یونیفارم میں ذاتی پسند کے مطابق تبدیلی کا طالب علم کو قانونی حق حاصل نہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نابالغ طالبہ نے اپنی والدہ کے ذریعے درخواست دائر کی تھی، مذکورہ طالبہ نے دسویں جماعت پاس کی ہے اور اسی اسکول میں گیارہویں جماعت میں داخلہ لینا چاہتی ہے۔

طالبہ نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ میں چھٹی جماعت سے حجاب پہن رہی ہوں اور حجاب اسلامی مذہب کا لازمی حصہ ہے۔

جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا پر مشتمل بینچ نے مشاہدہ کیا کہ طالبہ کی کلاسز کی تصاویر میں اس کے علاوہ کسی دوسری طالبہ حتیٰ کہ دیگر مسلمان طالبات نے بھی حجاب نہیں پہنا ہوا۔

بھارتی عدالت نے قرار دیا کہ مختلف ہائی کورٹس اس معاملے پر متفق ہیں کہ خواتین کے لیے حجاب پہننا ایسا لازمی مذہبی عمل نہیں جس کے بغیر اسلامی عقیدہ متاثر ہو۔

فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ اگر کسی نجی تعلیمی ادارے کا یونیفارم ضابطہ منصفانہ، غیر امتیازی اور تمام طلبہ پر یکساں طور پر نافذ ہو تو ادارے کو نظم و ضبط اور لباس کے ضابطے پر عمل کروانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اسکول انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ادارہ نجی اور خود مالیاتی بنیادوں پر چلتا ہے جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچے زیرِ تعلیم ہیں، کسی ایک طالبہ کو یونیفارم سے متعلق خصوصی رعایت دینے سے نظم و ضبط اور یکساں لباس کے اصول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ریاستی حکومت اور مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ نے بھی طالبہ کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق الہٰ آباد ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ 21 اگست کو سناتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔