ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایک انٹرویو میں ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ ہم تمام پڑوسی ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ ہمارے خلاف معاشی جنگ میں شریک نہ ہوں ورنہ ہم انہیں بھی دشمن سمجھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بڑھانا نہیں چاہتے مگر ایران کے پڑوسی ممالک نے معاشی جنگ میں امریکا سے تعاون کیا تو ہم انکے مفادات پر ضرب لگائیں گے۔ تیل کا ایک قطرہ بھی خلیج فارس یا آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنے دیں گے۔
محسن رضائی کا کہنا تھا کہ یہی نہیں خلیج فارس سے تیل درآمد کے لیے استعمال دیگر راستوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکیوں نے انقلاب ایران مخالف گروہوں سے ملاقاتیں کیں تو وہاں بھی حملہ کیا جائے گا۔
میجر جنرل رضائی نے کہا کہ امریکی سمجھتے تھے کہ وہ چند روز میں جنگ ختم کرکے تیل اور گیس پر قبضہ کرلیں گے، تاہم اس جنگ میں بارہ سو آئل ٹینکرز استعمال کے قابل نہیں رہے اور پندرہ فیصد عالمی فلیٹ ناکارہ ہوگیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تہران کو چاہیے کہ وہ تنازعہ میں اپنے نقطہ نظر اور دنیا کے ساتھ سفارتی طرز عمل کو بدلے کیونکہ امریکا نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔
محسن رضائی کا کہنا تھا کہ آج ایران وہ ایران نہیں جو جنگ سے پہلے تھا، سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے نئی فوجی تقرریاں اس بات کی علامت ہیں کہ ایران جنگ کے لیے تیار ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایرانی نوجوانوں کے ذہنوں میں امریکا کا امن سے محبت کرنیوالی قوم کا تاثر بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ امریکا نے مذاکرات، سفارتکاری اور خود اپنے دستخطوں کو دھوکہ دیا۔
محسن رضائی نے کہا کہ ٹرمپ کے اقدامات سے خدشہ ہے مزید ممالک ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، پوری دنیا سمجھ گئی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ احمق شخص ہیں جبکہ دنیا ایران کو نئے انداز سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے طریقے میں یقیناً تبدیلی لائی جائے گی۔ایران جنگ کے ان تجربات کو اگلی جنگ میں استعمال کرے گا۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ معاہدے سے متعلق سوال پر محسن رضائی نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے ان ممالک کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ خطہ چھوڑنا چاہتا ہے۔
ایک سوال پر محسن رضائی نے کہا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ رضا پہلوی کی واپسی سے ایران جنت بن جائے گا، انہیں یہ جاننا چاہیے کہ اگر پہلوی کو پھر سے اقتدار کے لیے لایا جاتا تو ایران پانچ حصوں میں تقسیم ہوجاتا۔