نیتن یاہو کی جماعت لیکود کو دھچکا، تازہ جائزے میں 1 نشست سے پیچھے

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جماعت لیکود تازہ عوامی جائزے میں سابق فوجی سربراہ گادی آیزنکوٹ کی قیادت میں قائم جماعت یاشار سے ایک نشست پیچھے رہ گئی۔

غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق یاشار کو پارلیمان میں 24 نشستیں جبکہ لیکود کو 23 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ جائزہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے 2 ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ قبل سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو کی جماعت لیکود نے انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کے انتخاب کا عمل شروع کر دیا ہے۔ 

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جماعت کے اندر ہونے والے امیدواروں کے انتخاب میں دائیں بازو کے سخت گیر امیدواروں کا اثر بڑھنے سے نیتن یاہو کی دوبارہ کامیابی کی امیدوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد لیکود کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے اور جماعت پارلیمان میں اپنی موجودہ نشستوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ کھو سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر لیکود کے تقریباً 140,000 ارکان نے سخت گیر اور عوام پسند امیدواروں کا انتخاب کیا تو جماعت کے لیے انتخابی مقابلہ مزید مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے روایتی ووٹروں کی ایک بڑی تعداد سیاسی طور پر نسبتاً معتدل حکومت چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو کی موجودہ حکومت میں انتہائی مذہبی یہودی اور قوم پرست جماعتیں بھی شامل ہیں۔

قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کی انتہائی قوم پرست یہودی طاقت جماعت اور وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ کی مذہبی صہیونی جماعت غزہ کی آبادی کو بے دخل کر کے وہاں دوبارہ آبادکاری کی حمایت کر چکی ہیں۔

نیتن یاہو نے لیکود کے امیدواروں میں معتدل ارکان کو شامل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ سخت گیر امیدواروں کے بڑھتے اثر کو متوازن کیا جا سکے۔