امریکی قومی سلامتی کے ماہر ڈین گریزیئر نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کی جانب سے بڑھائے جانے والے معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسٹمسن سینٹر کے قومی سلامتی اصلاحاتی پروگرام کے ڈائریکٹر ڈین گریزیئر کے مطابق ایران 1979ء سے امریکی پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کرتا آ رہا ہے، اس لیے یہ توقع کرنا مشکل ہے کہ مزید معاشی جنگ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کر دے گی۔
انہوں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ سمجھتی ہے کہ معاشی جنگ وہ نتائج حاصل کر سکتی ہے جو گزشتہ 6 ماہ کی فوجی کارروائیاں حاصل نہیں کر سکیں۔
سابق امریکی میرین افسر ڈین گریزیئر کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے معاشی دباؤ پر بڑھتا ہوا انحصار ممکنہ طور پر امریکی فوج میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی کمی کا نتیجہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوج کے پاس طویل فاصلے کی جنگ کے لیے درکار بعض اہم ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں جبکہ امریکا کو دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اپنی دفاعی ذمے داریاں پوری کرنی ہیں۔
ڈین گریزیئر نے عرب میڈیا سے گفتگو کے دوران یہ بھی کہا ہے کہ اگر امریکی فوج اپنے گولہ بارود کے ذخائر مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتی تو اسے حکمتِ عملی تبدیل کرنا ہو گی اور یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے فوجی کارروائیوں کے بجائے معاشی دباؤ پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی ہے۔