سونو نگم کا گانوں میں آٹو ٹیون استعمال کرنے کا اعتراف

—فائل فوٹو

 بھارتی گلوکار سونو نگم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنے بعض گانوں میں آٹو ٹیون کا استعمال کرتے ہیں۔ 

پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں موسیقی کی مکمل ڈیجیٹل پروڈکشن کے باعث آٹو ٹیون کی ضرورت پیش آتی ہے۔

 53 سالہ سونو نگم نے کہا کہ آٹو ٹیون کے دور نے موسیقی میں بہت سی تبدیلیاں کی ہیں، لوگ اس ٹیکنالوجی کے بارے میں بہت سی منفی باتیں کرتے ہیں، لیکن میرے خیال میں جو بھی ہوا اچھا ہوا۔

سونو نگم نے کہا کہ پہلے گلوکاروں کو آٹو ٹیون کے بغیر گانا پڑتا تھا اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم نے اس کے بغیر ریاض کیا، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ میں اپنے بعض گانوں میں آٹو ٹیون استعمال کرتا ہوں، آج کل موسیقی مکمل طور پر ڈیجیٹل اور ایک مقررہ پچ پر ریکارڈ کی جاتی ہے، جبکہ ماضی میں سرنگی، اسٹرنگز اور دیگر ساز براہِ راست بجائے جاتے تھے، اس لیے گلوکار کی پچ کا بالکل درست ہونا ضروری نہیں تھا۔

سونو نگم کا کہنا ہے کہ پہلے گلوکار اپنی آواز کو لائیو میوزک کے مطابق ایڈجسٹ کر لیتے تھے، لیکن اب تمام موسیقی ڈیجیٹل انداز میں ریکارڈ ہوتی ہے، اس لیے خام آواز نمایاں محسوس ہوسکتی ہے۔

سونو نگم نے کہا کہ فنکاروں کی ذمے داری ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو ایسے لوگوں کی آواز بہتر بنانے کے لیے استعمال نہ کریں جو گانا ہی نہیں گا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ گلوکار کو اپنی 99 فیصد صلاحیت کے ساتھ گانا چاہیے اور آٹو ٹیون کے ذریعے اسے 100 فیصد تک بہتر کیا جاسکتا ہے، گلوکار اگر اپنے شوق اور خواب پورے کرنے کے لیے گانوں میں آٹو ٹیون استعمال کرتے ہیں تو یہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن انہیں گلوکاروں کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔

دوسری جانب سونو نگم نے حال ہی میں فلم ’بتوارا 1947‘ کے لیے گانا ’تبسم‘ بھی گایا ہے، جس کی موسیقی اے آر رحمٰن نے ترتیب دی ہے جبکہ گیت جاوید اختر نے لکھا ہے۔ فلم میں سنی دیول، پریتی زنٹا، شبانہ اعظمی اور دیگر اداکار شامل ہیں۔

Related posts

پیرس میں سفارتخانہ پاکستان میں 79واں یومِ آزادی جوش و جذبے سے منایا گیا

تاریخی معاہدہ علاقائی استحکام کی جانب اہم سنگ میل ہے، ناظم الامور سعد وڑائچ

روس اور پاکستان کے تعلقات کامیابی کے ساتھ فروغ پا رہے ہیں: ولادیمیر پیوٹن