ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا انٹیلی جنس کی ناکامی کے باعث طویل عرصے سے غلط اندازے لگاتا رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز بھی امریکی انٹیلی جنس کی ناکامی کی ایک مثال ہے۔
عباس عراقچی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اب امریکا ناقص انٹیلی جنس پر ایک بار پھر انحصار کر کے آبنائے ہرمز کے معاملے میں اس سے بھی بڑا غلط اندازہ لگا رہا ہے۔
انہوں نے واشنگٹن پر طنز کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جعلی خبروں سے بھی زیادہ خطرناک جعلی انٹیلی جنس ہے، محتاط رہیں۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ اللّٰہ سب سے بڑا ہے، اللّٰہ زمین پر موجود کسی بھی طاقت سے بڑا ہے اور ہمیں صرف اس پر بھروسہ ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر نے ایرانی پاسداران انقلاب کے خاتمے اور فرار کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ ان کی قیادت بے یقینی کا شکار ہے، سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں، ایران کے پاس صرف فیک نیوز ہیں اور مہنگائی کی شرح 300 فیصد ہوچکی ہے، آگے ان کی حالت اس سے بھی بدتر ہوگی۔