Home اہم خبریںوٹامن بی 12 کی کمی بے چینی و گھبراہٹ کا سبب بن سکتی ہے: رپورٹ میں انکشاف

وٹامن بی 12 کی کمی بے چینی و گھبراہٹ کا سبب بن سکتی ہے: رپورٹ میں انکشاف

by 93 News
0 comments
—فائل فوٹو 

وٹامن بی 12 کی کمی صرف جسمانی کمزوری تک محدود نہیں رہتی بلکہ دماغ، اعصابی نظام اور مزاج پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق طبی شواہد میں متعدد بار یہ انکشاف ہو چکا ہے کہ وٹامن بی 12 کی کمی بعض افراد میں بے چینی، گھبراہٹ، چڑچڑاپن، اداسی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری جیسی علامات کا سبب بن سکتی ہے۔

وٹامن بی 12 اعصابی نظام کے معمول کے افعال، دماغی صحت، خون کے سرخ خلیوں کی تیاری اور جسم میں وراثتی مادے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔

یہ اہم ترین وٹامن اعصاب کے گرد موجود حفاظتی تہہ کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے جس کے باعث دماغ اور جسم کے درمیان برقی پیغامات (electrical signals) درست انداز میں منتقل ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق وٹامن بی 12 کی کمی سے خون کے سرخ خلیوں کی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے اور اس کی شدید کمی کی صورت میں خون کی ایک خاص قسم کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ اعصابی نظام متاثر ہونے سے ہاتھوں اور پاؤں میں سنسناہٹ، چکر آنا، توازن خراب ہونا، دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونا اور دماغی دھند (brain fog) جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، یہ علامات بعض اوقات گھبراہٹ یا گھبراہٹ کے دورے سے مشابہ محسوس ہوتی ہیں۔

وٹامن بی 12 کی کمی کی اہم علامات

جسمانی علامات میں شدید تھکن، کمزوری، جِلد کا زرد یا پھیکا پڑنا، سانس پھولنا اور چکر آنا شامل ہیں۔

اعصابی علامات میں ہاتھوں اور پاؤں میں سنسناہٹ، توازن برقرار رکھنے میں دشواری، یادداشت کے مسائل اور ذہنی دھند شامل ہو سکتی ہے۔

ذہنی اور جذباتی علامات میں بے چینی، چڑچڑاپن، افسردگی، مزاج میں تبدیلی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری شامل ہے۔

کن افراد کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ افراد وٹامن بی 12 کی کمی کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں جو مکمل طور پر نباتاتی غذاء (سبزیوں پر مشتمل) استعمال کرتے ہیں کیونکہ قدرتی نباتاتی غذاؤں میں وٹامن بی 12 کے ذرائع بہت محدود ہیں۔

عمر رسیدہ افراد میں بھی اس وٹامن کو جذب کرنے کی صلاحیت کم ہونے کے باعث خطرہ بڑھ سکتا ہے، اسی طرح نظامِ ہاضمہ کی بیماریوں میں مبتلا افراد میں بھی وٹامن بی 12 کا انجذاب متاثر ہو سکتا ہے۔

ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بعض ادویات اور معدے کی تیزابیت کم کرنے والی کچھ ادویات بھی طویل مدت میں وٹامن بی 12 کی سطح کو متاثر کر سکتی ہیں، اس لیے ایسے افراد کو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

کیا وٹامن بی 12 کی کمی دور کرنے سے بے چینی ختم ہو سکتی ہے؟

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص میں واقعی وٹامن بی 12 کی کمی موجود ہو تو اس کی کمی پوری کرنے سے متعلقہ جسمانی اور اعصابی علامات میں بہتری آ سکتی ہے تاہم جن افراد میں وٹامن بی 12 کی سطح معمول کے مطابق ہو، ان میں صرف وٹامن بی 12 استعمال کرنے سے بے چینی کم ہونے کے شواہد محدود ہیں۔

اس لیے ہر قسم کی بے چینی کو وٹامن بی 12 کی کمی سے منسلک کرنا بھی درست نہیں۔ 

طبی ماہرین کے مطابق بے چینی کی دیگر جسمانی، نفسیاتی اور طرزِ زندگی سے متعلق وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔

کب وٹامن بی 12 کا ٹیسٹ کروانا چاہیے؟

اگر کسی شخص کو مسلسل بے چینی کے ساتھ غیر معمولی تھکن، ہاتھوں یا پاؤں میں سنسناہٹ، یادداشت میں خرابی یا توازن کے مسائل درپیش ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ کر کے وٹامن بی 12 کی سطح کی جانچ کروائی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک نباتاتی یا مکمل طور پر سبزیوں پر مشتمل غذاء استعمال کرنے والے افراد کو وٹامن بی 12 کے مناسب حصول پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

وٹامن بی 12 کی کمی کی صورت میں مناسب علاج یا اضافی خوراک ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا بہتر ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

You may also like

Leave a Comment

Soledad is the Best Newspaper and Magazine WordPress Theme with tons of options and demos ready to import. This theme is perfect for blogs and excellent for online stores, news, magazine or review sites.

Buy Soledad now!

Edtior's Picks

Latest Articles

u00a92022u00a0Soledad.u00a0All Right Reserved. Designed and Developed byu00a0Penci Design.

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?
-
00:00
00:00
Update Required Flash plugin
-
00:00
00:00