وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بغیر اجازت فیس بڑھانے والے میڈیکل کالج پر جرمانے لگانے کا اعلان کردیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ہیلتھ سروسز کا اجلاس ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت ہوا۔
دوران اجلاس مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کوئی میڈیکل ادارہ مرضی سے فیس نہیں بڑھا سکتا، فیس بڑھانے کے لیے61 میڈیکل کالجز نے اپلائی کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 61 میں سے 35 میڈیکل کالجز نے فیس بڑھانے کے لیے کوالیفائی کیا، اگر کسی میڈیکل کالج نے بغیر اجازت فیس بڑھا دی ہے، تو اس کو جرمانہ کریں گے۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ 18 لاکھ فیس کی بیس لائن ہے، 25 لاکھ روپے فیس کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی، کسی کالج کو ساڑھے 18 یا 19 لاکھ سے زیادہ فیس کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
اُن کا کہنا تھا کہ فیس کم کر کے بھی کچھ نجی میڈیکل کالجز کی سیٹیں نہیں بھریں،1 کروڑ روپے میں طالب علم میرپورخاص میں ڈینٹسٹ نہیں بننا چاہتے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم نے اسٹڈی کرائی کہ کیا بچے صرف زیادہ فیس کی وجہ سے داخلہ نہیں لے رہے، ہم نے تجویز کیا ہے فیس مسئلہ نہیں معیار کا بھی ایشو ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن کالجز کی سیٹ خالی رہ گئی ہیں، ان کی انسپیکشن آرڈر کر دی ہے، وہ کالجز خود بند ہو جائیں گے جہاں بچے نہیں جا رہے اور کوالٹی نہیں، کالجز میں سیٹ خالی رہنے کی واحد وجہ زیادہ فیس نہیں۔