تحریک کشمیر اسکاٹ لینڈ کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کیخلاف یومِ استحصال

تحریک کشمیر اسکاٹ لینڈ کے زیر اہتمام گلاسگو کی کریگنٹن میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف یومِ استحصالِ کشمیر نہایت جوش و خروش اور جذبۂ یکجہتی کے ساتھ منایا گیا۔

تقریب میں کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

اجتماع سے تحریک کشمیر اسکاٹ لینڈ کے سیکریٹری سید طفیل حسین شاہ، میجر ماجد حسین، جنید الرحمان، خورشید خان اور شوکت سلطان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آئین کی دفعات 370 اور 35 اے کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی، جس کے بعد علاقے کی سیاسی، آئینی اور انتظامی حیثیت میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔

مقررین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنا اور وہاں کے آبادیاتی تناسب پر اثرانداز ہونا ہے۔

مقررین نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بڑی تعداد میں غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل جاری کیے گئے اور لاکھوں نئے ووٹرز کا اندراج کیا گیا، جس سے کشمیری عوام کی سیاسی شناخت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اظہارِ رائے، سیاسی سرگرمیوں اور بنیادی انسانی حقوق پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ کشمیری عوام اپنے بنیادی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔

اپنے خطابات میں مقررین کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے اور اس دوران بےشمار جانوں کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہزاروں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جبکہ متعدد افراد گرفتار، لاپتہ یا زخمی ہوئے۔

مقررین نے کہا کہ ایسے حالات میں عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیں اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر تحریک کشمیر یورپ کے صدر فہیم کیانی کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا، جس میں دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں پر زور دیا گیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور عوامی کوششیں مزید تیز کریں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کو عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا، کشمیری عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھیں گے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کا حق دینے میں مضمر ہے، کیونکہ اسی صورت میں جنوبی ایشیا میں دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

Related posts

پاکستان کے ساحلی علاقے کے قریب زلزلے کے جھٹکے

پیپلز پارٹی رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل کے دفتر پر فائرنگ، ملزمان فرار

کراچی میں لسانیت پر ووٹ لینے کا تاثر ختم ہوتا جا رہا ہے، سعید غنی