بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں ایک سیکیورٹی گارڈ نے مبینہ طور پر 17 سالہ لڑکے کو چور سمجھ کر گولی مار دی، جس کے نتیجے میں وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
پولیس کے مطابق واقعہ ہفتے کے روز صاحب آباد تھانے کی حدود میں ایک زیر تعمیر بلڈنگ میں پیش آیا، جہاں سیکیورٹی کے لیے ایک گارڈ تعینات تھا۔
مرنے والے نوجوان کی شناخت سمیر کے نام سے ہوئی ہے، جو صاحب آباد کا رہائشی تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق سمیر مبینہ طور پر عمارت میں سوشل میڈیا کے لیے ریل بنانے کی غرض سے داخل ہوا تھا۔
پولیس کے مطابق سیکیورٹی گارڈ نے سمیر کو عمارت میں داخل ہوتے دیکھا اور شبہ ظاہر کیا کہ وہ چوری کی نیت سے وہاں آیا ہے۔ گارڈ نے مبینہ طور پر اسی شبہ کی بنیاد پر فائرنگ کردی، جس سے گولی سمیر کے پیٹ میں لگی۔
زخمی نوجوان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
مقتول کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ گارڈ اور اس کے ساتھیوں نے نوجوان کو فائرنگ سے قبل تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور تحقیقات شروع کردیں۔ پولیس نے سیکیورٹی گارڈ اور اس کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والا لائسنس یافتہ اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس نے نوجوان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی ہے اور اہل خانہ کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرنے کی کارروائی جاری ہے۔