امریکا کے قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 1.8 ارب ڈالرز کے متنازع ’اینٹی ویپنائزیشن فنڈ‘ کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا جس کے بعد سینیٹ کی عدالتی کمیٹی میں ان (ٹوڈ بلانچ) کی نامزدگی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ان دو ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ کئی ہفتوں کے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے جو ٹوڈ بلانچ کی مستقل اٹارنی جنرل کے طور پر توثیق روک رہے تھے۔
ٹیکساس کے سینیٹر جان کارنن کے ترجمان نے معاہدے کی تصدیق کی ہے جبکہ شمالی کیرولائنا کے سینیٹر تھام ٹِلس نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ٹوڈ بلانچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا ہے کہ سینیٹرز کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد میں نے 18 مئی 2026ء کا وہ حکم نامہ باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت یہ فنڈ قائم کیا جانا تھا۔
حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے اہلِ خانہ کو ٹیکس آڈٹ سے استثنیٰ دینے والی شق صرف ماضی کے زیرِ التواء دعوؤں تک محدود ہو گی اور مستقبل کے ٹیکس گوشواروں پر اس کا اطلاق نہیں ہو گا۔
برطانوی اخبار دی گارجیئن کے مطابق اگرچہ اس معاملے پر کئی ہفتوں سے مذاکرات جاری تھے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل اس فنڈ کے حق میں بیان دیتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سینیٹ کی عدالتی کمیٹی میں ٹوڈ بلانچ کی نامزدگی پر ووٹنگ منگل کو متوقع ہے۔