اسرائیلی جیل کے گرد مگرمچھ چھوڑنے کا متنازع منصوبہ رک گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق کروڑوں ڈالرز کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا، عدالت نے منتقلی پر پابندی لگا دی۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ جیل سیکیورٹی کے لیے مگرمچھ استعمال کرنے کی عالمی مثال نہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی ماحولیاتی تحفظ کی وزیر ایدت سلمن نے مگرمچھوں کی درجہ بندی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایسا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت انہیں سیکیورٹی مقاصد، جیسے جیلوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دسمبر میں اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے فلسطینی قیدیوں کے لیے قائم جیلوں کے اطراف خندقیں کھود کر ان میں مگرمچھ چھوڑ دینے کی تجویز دی تھی۔
نئی درجہ بندی کے تحت مگرمچھوں کو جنگلی جانوروں کے بجائے ’پالے گئے جنگلی جانور‘ کے زمرے میں شامل کر دیا گیا ہے۔
اس تبدیلی کے بعد منظور شدہ سیکیورٹی اداروں کو حکومتی اجازت اور ماحولیاتی حکام کی شرائط کے تحت سیکیورٹی مقاصد کے لیے مگرمچھ رکھنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان سکیورٹی اداروں میں اسرائیلی محکمہ جیل بھی شامل ہے جو براہِ راست بن گویر کے ماتحت کام کرتا ہے۔