ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آٹزم کے شکار افراد میں پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ہونے کا امکان دو گنا زیادہ ہوتا ہے، جبکہ دونوں بیماریوں کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ درمیانی اور اس سے زیادہ عمر کے آٹزم کے شکار افراد میں پارکنسنز کی بیماری سے منسلک علامات ظاہر ہونے کا امکان دیگر افراد کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔
حالیہ برسوں میں آٹزم کی تشخیص کے کیسز میں 40 گنا تک اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ نوعمر افراد میں اس عارضے کی بڑھتی ہوئی تشخیص ہے۔ تاہم برطانوی حکومت کے حالیہ جائزے کے مطابق اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ آٹزم کے شکار بچوں کی اصل تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ اس کی وجہ آگاہی میں بہتری ہے، جس کے باعث زیادہ افراد طبی مدد حاصل کرنے کے لیے رجوع کر رہے ہیں۔
اگرچہ آٹزم کی تشخیص عموماً زندگی کے ابتدائی برسوں جبکہ پارکنسنز کا مرض بڑی عمر میں ظاہر ہوتا ہے، تاہم ماہرین اب یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ ان دونوں بیماریوں کے درمیان تعلق ہو سکتا ہے۔
امریکی محققین نے 45 سال اور اس سے زیادہ عمر کے 5 کروڑ 70 لاکھ افراد کے طبی ریکارڈ کا تجزیہ کیا اور معلوم کیا کہ آٹزم کے شکار بالغ افراد میں پارکنسنز کی علامات ظاہر ہونے کی شرح ایسے افراد کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ تھی جنہیں اعصابی نشوونما سے متعلق یہ عارضہ لاحق نہیں تھا۔
آٹزم کی تشخیص والے تقریباً 4 فیصد افراد میں اس مرض کی نمایاں علامات، مثلاً ہاتھوں میں کپکپی، پٹھوں میں اکڑاؤ اور یادداشت و سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں مسائل سامنے آئے، جبکہ دوسرے گروپ میں یہ شرح صرف 1.6 فیصد تھی۔
ذہنی معذوری کے شکار افراد، مثلاً ڈاؤن سینڈروم یا حمل کے دوران الکحل کے استعمال سے پیدا ہونے والے عوارض میں مبتلا افراد میں بھی حرکت سے متعلق مسائل پیدا ہونے کا امکان زیادہ تھا، جہاں یہ شرح 4.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کیسز محض آٹزم سے وابستہ جسمانی حرکات میں ہم آہنگی کی مشکلات کا نتیجہ نہیں ہیں۔ اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ آٹزم کے شکار افراد میں عام طور پر استعمال ہونے والی بعض ادویات جیسے اینٹی سائیکوٹک ادویات، پارکنسنز جیسی علامات اور مضر اثرات پیدا کر سکتی ہیں۔
تاہم محققین کا کہنا ہے کہ آٹزم کے شکار افراد کے زیر استعمال ادویات کے اثرات کو مدنظر رکھنے کے باوجود پارکنسنز کی علامات کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ رہا۔ تحقیق میں پارکنسنزم کی تشخیص کا جائزہ لیا گیا جو علامات اور طبی کیفیات کا ایک مجموعہ ہے، عموماً پارکنسنز کی تشخیص کا سبب بنتا ہے۔ ماضی کی تحقیقات میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کیمیائی مادہ ڈوپامین ان دونوں بیماریوں کے درمیان پوشیدہ تعلق ہو سکتا ہے۔ یہ مادہ جسمانی حرکات، تحریک، سیکھنے اور رویوں کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
پارکنسنز کا مرض دماغ میں ڈوپامین پیدا کرنے والے خلیات کی تعداد میں کمی کے باعث ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ہاتھوں میں کپکپی، جسم میں اکڑاؤ، حرکات میں سستی اور توازن برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ دوسری جانب آٹزم کے شکار افراد کا دماغ بھی ڈوپامین کو مختلف انداز میں پراسیس کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ آٹزم پارکنسنز کا سبب بنتا ہے، تاہم سائنس دان ان دونوں بیماریوں کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے ڈوپامین کے نظام میں خرابیوں کا مزید گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
پارکنسنز کا مرض بتدریج مریضوں سے خود مختار زندگی گزارنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے۔ اس مرض کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے باوجود تاحال اس کا کوئی مکمل علاج یا ایسی منظور شدہ دوا موجود نہیں جو اس کی پیش رفت کو سست کر سکے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے اس بیماری کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت قریب ہے۔ نئی جنریشن ادویات تیار کی جا رہی ہیں جو آئندہ تین برسوں کے دوران دستیاب ہو سکتی ہیں۔