سوشل میڈیا ریلز سے متاثر ہو کر ورزش و خوراک کا معمول نہ اپنائیں: ماہرین کا مشورہ

—فائل فوٹو 

بھارتی متعدد نامور اداکاروں کے فٹنس کوچ نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر صحت، ورزش اور خوراک سے متعلق ہر مشورے پر عمل کرنے کے بجائے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے کہ آیا وہ آپ کے لیے موزوں بھی ہے یا نہیں۔

بھارتی فٹنس کوچ کے مطابق آج کل کی نوجوان نسل انٹرنیٹ پر نظر آنے والی ہر ریل سے بہت جَلد متاثر ہو جاتی ہے اور ہر ریل کو حقیقت سمجھ بیٹھتی ہے، صارفین آن لائن انٹرویوز میں فنکاروں کی جانب سے شیئر کیے گئے روٹین سے بھی متاثر ہو کر اسے اپنا لیتے ہیں جس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔

فٹنس کوچ کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر کوئی بھی صحت یا فٹنس سے متعلق مشورہ دیکھنے کے بعد فوری عمل کرنے کے بجائے 2 منٹ رک کر اس کی ضرورت اور افادیت پر غور کریں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص 36 گھنٹے تک بھوکا رہنے کا معمول اپناتا ہے لیکن اس کے بعد شراب نوشی اور غیر صحت بخش غذائیں کھاتا ہے تو ایسی مشق کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔

رنبیر کپور، امیتابھ بچن اور رام چرن جیسے اداکاروں کی تربیت کرنے والے فٹنس کوچ کے مطابق صرف 3 سے 4 دن کسی معمول پر عمل کرنے سے دیرپا نتائج حاصل نہیں ہوتے، اس کے بجائے ایسی عادات اپنانی چاہئیں جنہیں طویل عرصے تک برقرار رکھا جا سکے۔

فٹنس ماہر کے صحت مند طرزِ زندگی کے لیے اہم مشورے

چھوٹے اہداف مقرر کریں: خوراک اور ورزش میں اچانک بڑی تبدیلیاں کرنے کے بجائے روزانہ 5 منٹ چہل قدمی یا چند ورزشوں سے آغاز کریں اور بتدریج اضافہ کریں۔

غذاء میں صحت مند چیزیں شامل کریں: پسندیدہ کھانوں پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذاء کو ترجیح دیں، آہستہ کھائیں اور پیٹ بھرنے کے احساس پر توجہ دیں۔

پسندیدہ ورزش کا انتخاب کریں: فٹنس کوچ کے مطابق دوڑنا ضروری نہیں، اس کے بجائے تیراکی، سائیکل چلانے، رقص یا چہل قدمی جیسی سرگرمیاں بھی اپنائی جا سکتی ہیں۔

آرام اور بحالی کو اہمیت دیں: ورزش کے ساتھ جسم کو آرام دینا بھی ضروری ہے، اپنی جسمانی کیفیت کے مطابق ورزش کے معمول میں تبدیلی کریں، کسی فنکار یا کوچ کی فٹنس سے متاثر ہو کر خود پر سختی یا ایک وقت میں ضرورت سے زیادہ ورزش کرنے سے گریز کریں۔

فٹنس کوچ کے مطابق دوسروں کی دیکھا دیکھی صحت کے نئے رجحانات اپنانے کے بجائے اپنی ضروریات، جسمانی صلاحیت، غذائی ترجیحات اور صحت کی کیفیت کے مطابق معمول بنانا چاہیے۔ 

وزن گھٹانے اور جسم کو ایک سڈول شکل میں لانے میں کئی سال کا وقت درکار ہوتا ہے، صحت کے معاملات دنوں یا ہفتوں میں صحیح نہیں ہوتے، کسی شخصیت سے متاثر ہونے کے بجائے اپنی روزمرہ کی روٹین میں مستقل مزاجی اور قابلِ عمل عادات کو لاگو کرنا ہی پر دیرپا صحت اور تندرستی میں مدد دیتا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔