پاس ورڈ شیئرنگ پر پابندی کے بعد نیٹ فلکس کو کیا نقصان ہوا؟

— فائل فوٹو 

معروف اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس کے بارے میں ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق نیٹ فلکس کے اندرونی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین اب مہینے میں اتنے دن ایپ کا استعمال نہیں کرتے جتنے دن چند سال پہلے تک کرتے تھے۔ 

یہ رپورٹ تیار کرنے کے لیے’کوالیفائیڈ پلے ڈیز (QPD)‘ نامی پیمانہ استعمال کیا گیا جو بتاتا ہے کہ صارفین کتنے دن اسٹریمنگ سروس پر مواد دیکھتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2026ء کی پہلی ششماہی میں نیٹ فلکس پر مجموعی وقت میں معمولی اضافہ ہوا، تاہم اس کی وجہ صارفین کی تعداد میں اضافہ تھا لیکن فی صارف ایپ پر گزارے گئے اوسط وقت میں کمی دیکھی گئی، جس سے کمپنی کی انتظامیہ کو تشویش ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق صارفین کے نیٹ فلکس کے استعمال میں کمی کا رجحان 2022ء میں پاس ورڈ شیئرنگ کے خلاف کارروائی کے بعد سامنے آیا۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتداء میں کمپنی کے عہدیداروں نے اسے عارضی تبدیلی سمجھا کیونکہ پاس ورڈ شیئرنگ پر پابندی عائد ہونے کے بعد ایک اکاؤنٹ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد کم ہو گئی تھی، لیکن یہ رجحان برقرار رہا۔

رپورٹ کے مطابق اب کمپنی نے صارفین کو متوجہ کرنے اور موجودہ ناظرین کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے پروگرامنگ بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔

 اس کے علاوہ پوڈکاسٹس اور براہِ راست کھیلوں سمیت نئی اقسام کے مواد پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیٹ فلکس کی انتظامیہ ایپ کے کم ہوتے استعمال کی کئی ممکنہ وجوہات کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں ایپ کے نئے انٹرفیس، حریف پلیٹ فارمز سے بڑھتا مقابلہ، نئے مقبول ڈراموں اور فلموں کی کمی اور ایپ کے اندر مواد کی تشہیر میں مشکلات شامل ہیں۔