بھارت میں 10 ویں جماعت کے لڑکے اور لڑکی کے ساتھ بدسلوکی، کریتی سینن کا بیان سامنے آگیا

—فائل فوٹو

بھارتی اداکارہ کریتی سینن نے ریاست بہار کے ضلع جموی میں پیش آنے والے واقعے پر جاری بحث کے دوران صنفی عدم مساوات اور پدر شاہانہ سوچ پر اظہارِ خیال کیا ہے۔

کریتی سینن نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ ’مرد بمقابلہ خواتین‘ نہیں، بلکہ خواتین کا مقابلہ پدر شاہانہ اور خواتین مخالف سوچ رکھنے والے مردوں اور ان خواتین سے ہے جو پدر شاہی کو روایات کا حصہ سمجھتی ہیں۔

اداکارہ نے کسی مخصوص واقعے کا براہِ راست نام نہیں لیا، تاہم ان کی سوشل میڈیا سرگرمی جموی میں دسویں جماعت کی طالبہ اور اس کے ہم جماعت لڑکے کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعے پر جاری عوامی غم و غصے کے دوران سامنے آئی۔

واضح رہے کہ پولیس کے مطابق 19 ستمبر کی شام بہار کے جموی میں دسویں جماعت کے دو طلبہ کو اس وقت افراد کے ایک گروپ نے روکا جب وہ اسکوٹر پر واپس جارہے تھے۔

پولیس کے مطابق نوجوانوں کو مبینہ طور پر روک کر تشدد اور جسمانی و جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد عوامی غم و غصے کے نتیجے میں پولیس نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔

پولیس کے مطابق مرکزی ملزم نندن یادو کو بعد ازاں پولیس مقابلے کے دوران زخمی ہونے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔

حکام نے واقعے کی ویڈیو آن لائن پھیلانے کی بھی تحقیقات شروع کردی ہیں اور واضح کیا ہے کہ نابالغ متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے والی فوٹیج شیئر کرنا قابلِ سزا جرم ہے۔