سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، حکومت سنجیدگی سے بات کرے تو حل نکل سکتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران راجا ناصر عباس نے کہا کہ وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی سے پچھلے دنوں ہونے والی گفتگو کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔
انہوں نے بتایا کہ محسن نقوی کا اصرار تھا کہ احتجاج کی کال واپس لے لی جائے تو بات ہوگی۔ انہیں اپوزیشن نے بتایا کہ 27 ستمبر کی کال صرف بانی چیئرمین ہی واپس لے سکتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ ہم نے محسن نقوی سے کہا کہ آپ ملاقات کی اجازت دے دیں، تو عمران خان سے اس پر بات کریں گے، جس کے بعد ملاقات بےنتیجہ ختم ہوگئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کا بھی پُرامن احتجاج کا حق ہے، یہ پُرامن جلسوں سے کیوں ڈرتے ہیں، ہمارے لیے سارے راستے بند کردیے گئے ہیں۔
راجا ناصر عباس نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کی بات کو نہیں مانا جاتا ہے، بانی پی ٹی آئی کی بہن کو حراست میں لیا گیا اور کہا امن عامہ کا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر کنٹینر لگانا کہاں کا انصاف ہے، پہلے پیش گوئی کی جاتی ہے، رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، ہم پُرامن طور پر اسلام آباد آئیں گے، پُرامن احتجاج ہوگا، اور نتیجہ بھی اسی سے ملے گا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم کسی سے لڑائی نہیں کرنا چاہتے، حکومت کو مذاکرات اور پُرامن احتجاج کے انتظامات کرنے چاہئیں، حکومت کو چاہیے ہم سے بات کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کا اعلان کیا جاتا ہے تو حکومت بات چیت کرتی ہے، احتجاج کو ختم صرف بانی پی ٹی آئی کرسکتے ہیں، ہم سیاسی لوگ ہیں کوئی حل نکالیں گے۔
راجا ناصر عباس نے کہا کہ احتجاج ہی تو کر رہے ہیں، حکومت والے بات تو کریں، حکومت کو لچک دکھانی ہوگی، احتجاج کرنے والوں سے بات کریں، مذاکرات کا راستہ بند کرنا درست نہیں۔