ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ڈیلس فورٹ ورتھ انٹرنیشنل ایئر پورٹ (ڈی ایف ڈبلیو) اور ہیوسٹن کے جارج بش انٹر کانٹینینٹل ایئرپورٹ (آئی اے ایچ) پر مسلمانوں کے لیے وضو اور نماز کی سہولتوں کو مبینہ مذہبی امتیاز قرار دیتے ہوئے دونوں ایئر پورٹس کو دی جانے والی سرکاری گرانٹس کے جائزے کا حکم دے دیا۔
گورنر نے دونوں ایئر پورٹس کا معاملہ امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹیشن کو بھی تحقیقات اور ممکنہ کارروائی کے لیے بھیج دیا ہے۔
گورنر گریگ ایبٹ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ٹیکساس میں ایئر پورٹس چلانے والے اداروں کو دی جانے والی ریاستی گرانٹس کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا موجودہ گرانٹس واپس لی جائیں یا مستقبل میں ان اداروں کو مزید ریاستی فنڈز فراہم نہ کیے جائیں۔
گورنر کا مؤقف ہے کہ سرکاری ملکیت کی تنصیبات میں کسی ایک مذہب کے پیروکاروں کے لیے مخصوص سہولت فراہم کرنا مذہبی امتیاز کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
گورنر کے دفتر کے مطابق ڈی ایف ڈبلیو انٹرنیشنل ایئر پورٹ مسلمانوں کے لیے وضو کی مخصوص سہولت قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جبکہ ہیوسٹن کے جارج بش انٹرکانٹینینٹل ایئر پورٹ پر ایسی ایک سہولت پہلے ہی قائم کی جا چکی ہے جس کے ساتھ نماز کے لیے جگہ بھی موجود ہے۔
گورنر گریگ ایبٹ نے امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی کو لکھے گئے خط میں درخواست کی ہے کہ امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹیشن اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) ڈی ایف ڈبلیو اور آئی اے ایچ پر موجود یا مجوزہ مذہبی سہولتوں کا فوری جائزہ لیں اور اگر ضروری ہو تو اصلاحی یا قانونی کارروائی کریں۔
ان کے مطابق دونوں ایئر پورٹس وفاقی فنڈز وصول کرتے ہیں اور انہیں امتیازی سلوک سے متعلق وفاقی قوانین کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔
گورنر گریگ ایبٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وضو کے لیے بنائی جانے والی یہ سہولتیں بظاہر مذہب کی بنیاد پر آبادی کے ایک مخصوص حصے کو خصوصی سہولت دینے کے لیے بنائی گئی ہیں، جسے وہ غیر قانونی سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ چونکہ دونوں ایئر پورٹس سرکاری ملکیت میں ہیں، اس لیے حکومت کسی ایک مذہبی نقطۂ نظر کو دوسروں پر ترجیح نہیں دے سکتی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے چلنے والی سرکاری سہولتوں میں غیر قانونی مذہبی امتیاز کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
گورنر کے اس اقدام کے بعد اب توجہ امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹیشن اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے ممکنہ ردِعمل پر مرکوز ہو گی، جبکہ یہ معاملہ مذہبی آزادی، مساوی سہولتوں اور سرکاری اداروں کی جانب سے مختلف مذاہب کے مسافروں کو دی جانے والی سہولتوں کے حوالے سے ایک اہم قانونی اور سیاسی بحث بھی پیدا کر سکتا ہے۔