گلاسگو: انگلینڈ دنیا کے ان پہلے ممالک میں شامل ہونے جا رہا ہے جو جگر کو متاثر کرنے والی بیماری ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے ہدف کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق اب تک معلوم مریضوں میں 80 فیصد کا کامیاب علاج کیا جا چکا ہے جبکہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران اس بیماری سے ہونے والی اموات میں 36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس میں خون کے ٹیسٹ، جی پی کے ساتھ رجسٹریشن کے وقت اسکریننگ اور مفت گھریلو ٹیسٹ کٹس کی فراہمی کے ذریعے ہزاروں ایسے افراد کی تشخیص ممکن ہوئی جو پہلے اپنی بیماری سے لاعلم تھے، جس کے بعد ان کا بروقت علاج کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2015 سے اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد کی تشخیص اور علاج کیا جاچکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید اینٹی وائرل ادویات 8 سے 12 ہفتوں تک استعمال کرنے سے تقریباً 95 فیصد مریض مکمل صحتیاب ہو جاتے ہیں جس کے باعث انگلینڈ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عالمی ہدف کے حصول کے مزید قریب پہنچ گیا ہے۔