بھارتی فورسز کی جانب سے بنگلادیش کے کسان کو حراست میں لیے جانے کے بعد بنگلادیشی کسانوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرحد پار کرکے بھارتی کسانوں کو اٹھا کر لے آئے۔
بھارتی ریاست مغرب بنگال اور بنگلادیش کے سرحدی علاقے ’میہر پور سدر‘ پر اس وقت تناؤ پھیل گیا جب بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے 70 سالہ بنگلادیشی کسان عبدالمنان کو اپنے کھیتوں میں اسپرے کرتے وقت حراست میں لیا۔
عبدالمنان کو حراست میں لیے جانے کے بعد ان کے اہلخانہ اور دیہاتیوں نے بی ایس ایف سے ان کی رہائی کی بار بار درخواست کی، لیکن بی ایس ایف نے انہیں چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
کسان کے پوتے ابراہیم خلیل اللّٰہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’جب بی ایس ایف نے ہمارے دادا کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تو علاقے کے لوگ شدید غصے میں آ گئے۔ مجبوراً دیہاتیوں نے سرحد کے قریب سے دو بھارتی کسانوں کو اٹھالیا اور انہیں بنگلادیش منتقل کر کے بی جی بی کے حوالے کردیا تاکہ ہمارے دادا کی رہائی ممکن ہو سکے۔‘
واقعے کے فوراً بعد بارڈر گارڈ بنگلادیش (بی جی بی) اور بھارت کی بی ایس ایف کے درمیان سرحد کی زیرو لائن پر ہنگامی ’فلیگ میٹنگ‘ ہوئی۔
بی جی بی بٹالین کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل نجم الحسن نے تصدیق کی کہ مذاکرات کے بعد بنگلادیشی کسان عبدالمنان کو واپس بنگلادیشی حکام کے حوالے کر دیا گیا جبکہ بنگلادیشی دیہاتیوں کی تحویل میں موجود دونوں بھارتی کسانوں کو بھی بحفاظت بی ایس ایف کے سپرد کردیا گیا۔