وزارتِ منصوبہ بندی نے کھلے گھی، خوردنی تیل اور دودھ کے معیار کا ملک گیر سروے کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت تمام صوبوں اور متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق کھلے گھی، خوردنی تیل اور دودھ کے معیار کا سائنسی جائزہ لیا جائے گا جبکہ غیر معیاری خوراک سے عوامی صحت کو لاحق خطرات کا تعین اور خوراک کے معیار کے علاقائی رجحانات کی نشاندہی کی جائے گی۔
نتائج کے جائزے کے لیے تکنیکی ذیلی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس میں وزارتِ منصوبہ بندی، پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ماہرین شامل ہیں، ذیلی کمیٹی شواہد پر مبنی سفارشات پیش کرے گی۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ خوراک کا معیار قومی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے، ہر شہری کو محفوظ، صحت بخش اور معیاری خوراک کی فراہمی حکومت کی ذمے داری ہے۔
ان کا کہنا ہے اس سروے کا مقصد صرف خامیوں کی نشاندہی نہیں بلکہ معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
احسن اقبال نے کہا ہے کہ عوامی صحت کو اقتصادی اور ریگولیٹری پالیسی سازی کا مرکز ہونا چاہیے اور خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
مختلف شہروں میں تھوک اور پرچون قیمتوں کے فرق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صارفین ایک ہی شے کے لیے مختلف قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے صوبائی حکومتوں کو قیمتوں میں فرق کی وجوہات کا جائزہ لینے اور تھوک و پرچون قیمتوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے مارکیٹ میں شفافیت اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں مہنگائی کے بنیادی عوامل پر مسلسل نظر رکھنے اور صارفین کے تحفظ کے لیے بروقت پالیسی اقدامات پر بھی زور دیا گیا، وفاقی وزیر نے حکومتی توجہ گھریلو بجٹ پر اثر انداز ہونے والی اشیاء پر مرکوز رکھنے کی ہدایت کی۔
اعلامیے کے مطابق حساس قیمت اشاریے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں خام تیل، سویابین آئل، چاول، گندم، چینی، کھاد اور یوریا کی عالمی قیمتوں اور عالمی قیمتوں کے مقامی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔