برطانیہ میں ہونیوالے آرڈیننس سروے کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ شدید گرمی کا شکار شہروں میں پورٹ سماؤتھ سرفہرست ہے جہاں شدید ترین گرم موسم مقامی لوگوں کے لیے ایک بری خبر کے طور پر سامنے آیا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شہر جو کہ 2 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل علاقہ ہے خاص طور پر اس کا گرم موسم سخت کنکریٹ کی سطحوں اور سبز جگہ کی کمی کی وجہ سے خطرے میں ہے۔
اس شہر میں ہیٹ آئی لینڈ جیسا تاثر پایا جاتا ہے جو اپنے آس پاس دیہی علاقوں میں بھی درجہ حرارت بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے، یہاں 2040 تک انسانوں کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کی بڑی توقع ہے۔
ممکنہ طور پر لندن کا شہر ویسٹ منسٹر سب سے زیادہ گرمی سے متاثرہ شہر کے لیے دوسرے نمبر پر پہچان بنائیگا، پلائی ماؤتھ اس دوران خطرے کی میز پر پانچویں نمبر سے چھلانگ لگا کر 2040 تک اور اس کے بعد صدی کے اختتام تک تیسرا سب سے زیادہ غیر محفوظ شہر بن سکتا ہے۔
او ایس کے سی ای او نک بولٹن کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ان کے لیے اہم ہیں کیونکہ مذکورہ شہر وہ ہیں جہاں لاکھوں لوگ رہتے ہیں، کام کرتے ہیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی گزارتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتہائی اور مسلسل گرمی لوگوں کی صحت اور تندرستی کو متاثر، ٹرانسپورٹ، توانائی اور ہنگامی خدمات پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔