برطانیہ کا اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ، غیر قانونی بستیوں سے تجارت پر پابندی کا اعلان

برطانوی حکومت نے غزہ میں فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی انسانی مشکلات اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے خلاف اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئے اور سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک مشکل اور خطرناک عالمی ماحول میں برطانیہ کے لیے اپنی اقدار کے دفاع اور عالمی سطح پر قیادت کا اعتماد برقرار رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کئی برس سے مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی حمایت کرتا آیا ہے، تاہم محض بیانات کافی نہیں، بلکہ ان کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

وزیراعظم کے مطابق برطانیہ طویل عرصے تک اس خدشے کے باعث کارروائی سے ہچکچاتا رہا کہ اس پر اسرائیل مخالف ہونے کا الزام عائد کیا جائے گا، تاہم اب حکومت نے اسرائیلی عوام کے خلاف نہیں بلکہ موجودہ اسرائیلی حکومت کی ناقابل قبول پالیسیوں کے خلاف محتاط اور ہدفی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے غزہ میں فلسطینی عوام کی صورتحال کو دنیا کے ضمیر پر ایک داغ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم فلسطینی، جن میں بچے بھی شامل ہیں، مسلسل ہلاک ہو رہے ہیں اور علاقے میں انسانی بحران بدستور موجود ہے۔

بیان کے مطابق غزہ میں تباہی کی سطح انتہائی سنگین ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم 20 ہزار بچے شامل ہیں، بڑی تعداد میں خاندان اور برادریاں بکھر چکی ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی آبادی اب علاقے کے صرف ایک تہائی حصے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ ضرورت کے مقابلے میں بہت کم انسانی امداد غزہ میں داخل ہو رہی ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس صورتحال کو محض تماشائی بن کر نہیں دیکھ سکتے اور انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے بھی کہا تھا کہ برطانیہ کا ردعمل بہت سست اور ناکافی رہا ہے، اسی لیے انہوں نے حکومت کی پالیسی تبدیل کرنے کا عزم کیا تھا۔

برطانوی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق موجودہ اسرائیلی حکومت کے چار سالہ دور میں گزشتہ 20 برس کے مقابلے میں زیادہ اسرائیلی بستیوں کی منظوری دی گئی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال اب تک آبادکاروں کے تشدد کے 1500 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کے مطابق اسرائیلی حکومت دسمبر 2022 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے 104 نئی بستیوں کی منظوری دے چکی ہے۔

انہوں نے خاص طور پر E1 میگا سیٹلمنٹ کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا، جس کے تحت مغربی کنارے کے اہم حصے میں بڑے پیمانے پر تعمیرات کی جائیں گی۔ ان کے بقول یہ منصوبہ مغربی کنارے کے قلب میں ایک وسیع پٹی قائم کرے گا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

برطانوی حکومت نے اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے تین بڑے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

پہلا: برطانیہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی تجارت پر پابندی عائد کرے گا۔

دوسرا: برطانوی حکومت نے پہلی مرتبہ اپنا باضابطہ مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غیر قانونی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق یہ مؤقف عالمی عدالتِ انصاف کے نتیجے سے مطابقت رکھتا ہے، اگرچہ برطانیہ کا فیصلہ اس سے آزادانہ طور پر کیا گیا ہے۔

تیسرا: ایسے افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی جو غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی حمایت، سہولت کاری یا ان سے منافع حاصل کرتے ہیں۔ اس میں وہ کاروبار اور سرمایہ کار بھی شامل ہوں گے جو E1 بستی کی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں۔

برطانوی حکومت نے غزہ کے لیے ایک نئے انسانی امدادی پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ غزہ کے عوام کو اس وقت انتہائی ضروری انسانی امداد کی ضرورت ہے اور برطانیہ اس سلسلے میں مزید مدد فراہم کرے گا۔

برطانوی وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حماس کے حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ وہ حماس کی مذمت جاری رکھیں گے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ حماس کا حملہ اسرائیلی حکومت کو غزہ یا مغربی کنارے میں موجودہ اقدامات کا جواز فراہم نہیں کرتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ کی جانب سے کیے جانے والے نئے اقدامات کا مقصد اسرائیل کو مجموعی طور پر سزا دینا نہیں بلکہ غیر قانونی بستیوں کو نشانہ بنانا اور اسرائیلی حکومت پر پالیسی تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ برطانیہ اسرائیل پر مجموعی پابندیاں عائد نہیں کر رہا، کیونکہ ایسی پابندیاں اسرائیلی عوام کو متاثر کر سکتی ہیں، جن میں سے بہت سے لوگ اپنی حکومت کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی عوام اپنی حکومت کے اقدامات کے ذمہ دار نہیں ہیں اور اسی طرح برطانیہ میں موجود یہودی برادری کو بھی اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا ناقابل قبول ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ برطانوی یہودیوں کو موجودہ حالات میں جس خوف کا سامنا ہے، حکومت اس سے آگاہ ہے اور ہر قیمت پر ان کے تحفظ اور معاشرے کے ہر حصے میں یہود مخالف جذبات اور سام دشمنی (Antisemitism) کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ آج اعلان کیے گئے اقدامات کا بنیادی مقصد اس واحد سیاسی حل کا تحفظ کرنا ہے جس کے ذریعے اسرائیلی اور فلسطینی عوام مستقبل میں امن، سلامتی اور آزادی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر دو ریاستی حل کے امکانات کو زندہ رکھنے کے لیے کام جاری رکھے گی۔

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع کے باعث دو ریاستی حل کو شدید خطرات لاحق ہیں، اور برطانیہ اب اس صورتحال کے خلاف محض الفاظ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عملی اقدامات بھی کرے گا۔