برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث افراد اور اداروں پر مزید پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔
ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ بعض آبادکار فلسطینیوں کی ’نسلی صفائی‘ میں ملوث ہیں جبکہ اسرائیلی حکومت اس صورتحال سے چشم پوشی کر رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں کے محفوظ اور پائیدار مستقبل کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
برطانوی اعلان کے ردعمل میں اسرائیل نے چار جوابی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے، غزہ سے متعلق امریکی قیادت میں قائم رابطہ مشن میں برطانیہ کی شرکت ختم کرنے اور 12 برطانوی شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پابندی کا سامنا کرنے والوں میں سابق لیبر رہنما جیرمی کوربن، رکن پارلیمنٹ ناز شاہ، زہرا سلطانہ اور انسانی حقوق کے وکیل فہد انصاری بھی شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فلسطین کا مسئلہ عالمی سطح پر مزید توجہ حاصل کر رہا ہے اور برطانیہ، فرانس، کینیڈا سمیت متعدد ممالک اسرائیلی بستیوں کی توسیع روکنے اور دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔